Saturday, September 20, 2014

ایک عیسائی کا سوال ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو کیوں پیدا کیا ؟



 11804 - ایک عیسائی کا سوال ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو کیوں پیدا کیا ؟ 


قرآن یا سنت کی روشنی میں ، اللہ تعالی نے انسان کو کیوں پیدا فرمایا؟

الحمد للہ 
اللہ تعالی نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت اور توحید اور اللہ تعالی کے حکموں کو ماننے اور اس کی منہیات سے بچنے کے لئے پیدا فرمایا ہے۔
فرمان باری تعالی ہے:
"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے"
یعنی اس کی توحید بیان کرنے اور عبادت میں صرف اسے اکیلا ماننے کےلئے کسی اور کو نہیں، عبادت کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالی کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور ان کی اتباع کی جائے کیونکہ وہ نمونہ اور آئیڈیل اور قدوہ ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:
"یقینا تمہارے لئے رسول اللہ عمدہ نمونہ ہیں"۔
واللہ اعلم .
Read More »

اللہ تعالی عرش پر مستوی اور اپنے علم کے ساتھ وہ ہمارے قریب ہے



 11035 - اللہ تعالی عرش پر مستوی اور اپنے علم کے ساتھ وہ ہمارے قریب ہے 


قرآن کریم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے : < اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے > تو کیا یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالی عرش پر بیٹھا (مستوی ہو کر) دنیاوی امور میں اپنا حکم جاری کرتا ہے ؟ تو اس بنا پر اللہ تعالی کیسے ہماری رگوں سے بھی زیادہ قریب ہے ؟

الحمدللہ
کتاب وسنت اور امت کے سلف سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالی اپنے آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے اور وہ بلند و بالا اور ہر چیز کے اوپر ہے اس کے اوپر کوئی چیز نہیں ۔
فرمان باری تعالی ہے :
< اللہ تعالی وہ ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان سب کو چھ دنوں میں پیدا کر دیا پھر عرش پر مستوی ہوا تمہارے لۓ اس کے سوا کوئی مدد گار اور سفارشی نہیں کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے >
ارشاد باری تعالی ہے :
< بلاشبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے >
< تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل کو بلند کرتا ہے >
فرمان باری تعالی ہے :
وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے ، وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی ہے >
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( اور ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں )
اس معنی میں آیات اور احادیث ہیں اس کے باوجود اللہ تعالی نے خبر دی ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے وہ جہاں بھی ہوں ۔
فرمان باری تعالی ہے :
< کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالی آسمانوں اور زمین کی ہر چیز سے واقف ہے تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ ہی پانچ کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ کی مگر وہ جہاں بھی ہوں وہ ساتھ ہوتا ہے >
بلکہ اللہ تعالی نے اپنے عرش پر بلند ہونے اور بندوں کے ساتھ اپنی معیت کو ایک ہی آیت میں اکٹھا ذکر کیا ہے ۔ فرمان بار تعالی ہے
< وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا وہ اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اور جو آسمان سے نیچے آۓ اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے اور جہاں کہیں بھی تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے >
تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ خلط ملط ہے بلکہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ علم کے اعتبار سے ہے اور اس کے عرش پر ہونے کے باوجود ان کے اعمال میں سے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں ۔
اللہ تعالی کا یہ فرمان کہ : < اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں >
تو اکثر مفسرین نے اس کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ : اللہ تعالی کا یہ قریب ان فرشتوں کے ساتھ ہے جن کے ذمہ ان کے اعمال کی حفاظت لگائی گئ ہے اور جس نے اس کی تفسیر اللہ تعالی کہ قرب کی ہے وہ اس اللہ تعالی کے علم کے ساتھ قریب ہے جس طرح کی معیت میں ہے ۔
اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کو اس کی مخلوق پر بلندی اور معیت کو ثابت کرتے ہیں اور مخلوق میں حلول سے اللہ تعالی کو پاک قرار دیتے ہیں ۔ لیکن معطلۃ یعنی جہمیہ اور ان کے پیروکار اللہ تعالی کی مخلوق پر اس کے علو اور اس کے عرش پر مستوی ہونے کا انکار کرتے اور وہ یہ کہتے کہ اللہ تعالی ہر جگہ پر ہے ۔
ہم اللہ تعالی سے مسلمانوں کی ہدایت کے طلبگار ہیں ۔ .
Read More »

قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ اور غیر مخلوق ہے



10153: قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ اور غیر مخلوق ہے


کیا آپ ہمیں انگلش میں کسی ایسی کتاب کا بتا سکتے ہیں جس میں یہ بحث ہو کہ قرآن مجید مخلوق نہیں اور اس کے متعلق مسلمان کیا عقیدہ رکھیں ؟
الحمدللہ
ہم مسلمانوں پر واجب ہے کہ ہمارا یہ عقیدہ ہونا چاہۓ کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل شدہ ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بتایا ہے اور اللہ تعالی نے بھی یہ خبر دی ہے کہ وہ کلام کرتا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :
< اور اللہ تعالی سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہو گا > النساء / 87
اور فرمان باری تعالی ہے :
< اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ تعالی سے زیادہ سچا ہو ؟> النساء / 122
تو ان دونوں آیتوں میں اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالی کلام کرتا ہے اور اس کا کلام سچا اور حق ہے اس میں کسی قسم کا جھوٹ اور کذب نہیں ۔
اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے :
< اور جب اللہ تعالی نے کہا اے عیسی بن مریم > المائدہ / 166
تو اس آیت میں ہے کہ اللہ تعالی کلام کرتا اور اس کی کلام کی آواز ہے جو کہ سنی جاتی ہے اور اس کے کلمات اور جملے ہیں اور اس کی دلیل کہ اس کی کلام حروف پر مشتمل ہے یہ فرمان ہے :
< اے موسی میں تیرا رب ہوں > طہ 11- 12
تو یہ کلمات حروف ہیں اور اللہ تعالی کی کلام سے ہیں ۔
اور اس کی دلیل کہ اس کی آواز ہے ۔ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے :
< ہم نے طور کی دائیں جانب سے اسے پکارا اور راز گوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا > مریم / 52
پکار اور سرگوشی آواز کے بغیر نہیں ہوتی-
دیکھیں کتاب : لمعۃ الاعتقاد تالیف ابن عثیمین رحمہ اللہ ص 73
تو اسی بنا پر اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ رہا ہے کہ اللہ تعالی جب چاہے اور جیسے چاہے آواز اور حروف کے ساتھ حقیقی طور پر کلام کرتا ہے اور اس کا یہ کلام مخلوق سے مشابہ نہیں اس کی دلیل کہ اس کی کلام مخلوق کے مشابہ نہیں اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے :
< اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے > الشوری 11
تو شروع سے ہی معلوم ہے کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہی ہے اور اہل سنت والجماعت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ تعالی کی کلام ہے اور اس عقیدے کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے :
< اگر مشرکوں میں سے کوئی آپ سے پناہ طلب کرے تو آپ اسے پناہ دے دیں یہاں تک کہ وہ اللہ تعالی کا کلام سن لے > التوبہ / 6
تو اس سے بالاتفاق قرآن مجید مراد ہے ۔ اور اللہ تعالی نے کلام کی اضافت اپنے آپ کی طرف کی ہے جس کی بنا پر یہ معلوم ہوا کہ قرآن مجید اس کا کلام ہے ۔
اور اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالی کا نازل کردہ کلام ہے اور مخلوق نہیں اس سے یہ کلام شروع ہوا اور اسی کی طرف لوٹ جائے گا ۔
نازل شدہ ہونے کے مندرجہ ذیل دلائل ہیں :
فرمان باری تعالی ہے :
< رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا > البقرہ / 185
اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
< ہم نے اسے قدر والی رات میں نازل کیا > القدر /1
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
<اور قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے اس لۓ نازل کیا ہے کہ آپ اسے بہ مہلت لوگوں کو سنائیں اور ہم نے خود بھی اسے بتدریج نازل فرمایا > الاسراء / 106
اور فرمان باری تعالی ہے :
< اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالی نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ آپ تو بہتان باز ہیں بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کو علم ہی نہیں کہہ دیجۓ کہ اسے آپ کے رب کی طرف سے جبرائیل حق کے ساتھ لے کر آۓ ہیں تا کہ ایمان والوں کو اللہ تعالی استقامت عطا فرمائے اور مسلمانوں کی رہنمائی اور بشارت ہو جائے ہمیں خوب علم ہے کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے اس کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے > النحل / 101 – 103
مندرجہ ذیل دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم مخلوق نہیں ۔
< یاد رکھو اللہ ہی کے لۓ خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا > تو اللہ تعالی نے خلق یعنی پیدا کرنا ایک اور امر وحکم کو دوسری چیز قرار دیا ہے کیونکہ عطف غیر کا تقاضا کرتا ہے اور قرآن مجید حکم اور امر سے ہے اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے :
< اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے ؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں > الشوری / 52
تو اگر قرآن امر میں سے ہے جو کہ خلق کی قسم ہے تو قرآن غیر مخلوق ہوا کیونکہ اللہ تعالی کی صفات غیر مخلوق ہیں ۔
شرح عقیدہ طحاویہ ابن عیثمین رحمہ اللہ (1/ 418 -426)
تو ہم پر واجب اور ضروری ہے کہ ہم یہی عقیدہ رکھیں اور اس کا یقین رکھیں اور اللہ تعالی کی آیات کو ان کی مراد سے تحریف نہ کریں کیونکہ ان کی اس بات پر دلالت صریح اور واضح ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ ہے تو اسی لۓ امام طحاوی رحمہ اللہ تعالی نے یہ بات کہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالی کی کلام ہے جو کہ قول کے اعتبار سے بلا کیفیت شروع ہوئی اور اس نے اسے وحی کی صورت میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا اور مومنوں نے اس کے حق ہونے کی تصدیق کی اور اس کا یقین کر لیا کہ یہ اللہ تعالی کی حقیقی کلام اور لوگوں کی کلام کی طرح مخلوق نہیں تو جس نے اسے سن کر یہ گمان کیا کہ یہ انسان کا کلام ہے تو اس نے کفر کیا اور اللہ تعالی نے اس کی مذمت کی اور عیب قرار دیا اور اس کے کہنے والے کو جہنم میں پھینکنے کا وعدہ کرتے ہوئے فرمایا :
< میں عنقریب اسے دوزخ میں ڈالوں گا > المدثر / 26
تو جہنم کا اس سے وعدہ جو یہ کہتا ہے کہ < یہ تو انسانی کلام کے علاوہ کچھ نہیں > المدثر / 25
تو ہمیں اس کا یقین اور ہمیں اس کا علم ہو گیا کہ یہ انسان کے خالق کا قول اور کلام ہے اور انسان کے قول سے مشابہت نہیں رکھتا- اھـ
شرح عقیدہ طحاویہ ص 179
واللہ اعلم .
Read More »

مسلمانوں کا معبود کون ہے



4524: مسلمانوں کا معبود کون ہے


مسلمان کس کی عبادت کرتے ہیں ؟
:الحمد للہ 
جواب دینے سے قبل آپ کا دین اسلام سے اہتمام – سوال کرنے والی کی چھوٹی عمر پر – ہم اپنے تعجب کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی اس سوال کے پوچھنے کی بنا پر آپ کے لۓ خیر عظیم کے دروازے کھول دے اور آپ کے لۓ وہ ہدایت لکھ دے جو کہ آپ کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو ۔
ارشاد باری تعالی ہے :
( یہ اللہ تعالی کی ہدایت ہے جسے چاہے اپنے بندوں میں سے اس کے ذریعے سے اس کی ہدایت دے دیتا ہے ) الانعام / 88
فرمان ربانی ہے :
( اللہ تعالی جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لۓ کھول دیتا ہے ) الانعام 125
اور یہ عظیم سوال کہ مسلمان کس کی عبادت کرتے ہیں ؟ تو اس کے متعلق قرآن کریم جو کہ اسلام کی کتاب ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے جو کہ ان کی طرف ان کے رب کی وحی ہے سے جواب دیا جاتا ہے ۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
( شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے سب تعریفیں اللہ تعالی کے لۓ ہیں جو تمام جہانوں کا رب اور پالنے والا ہے ، جزا کے دن (یعنی قیامت ) کا مالک ہے ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ) سورۃ الفاتحہ
اور اللہ تعالی کا فرمان ہے :
( اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کار ساز ہے ) الانعام / 102
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
( اور آپ کا رب یہ حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور والدین کے ساتھ احسان کرتے رہو اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جا‎ئیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا اور نہ ہی انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا ) الاسراء 23
اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا :
( کیا یعقوب ( علیہ السلام) کی وفات کے وقت تم موجود تھے ؟ جب انہوں نے اپنی اولاد کو کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے تو سب نے جواب دیا آپ کے معبود کی اور آپ کے آباء اجداد ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق (علیہم السلام) کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے ) البقرہ / 133
مسلمان اللہ تعالی کی عبادت کرتے اور اپنے علاوہ دوسرے ادیان والوں کو صرف اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں :
جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے :
( آپ کہہ دیجۓ کہ اے اہل کتاب ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو کہ ہم تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالی کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں اور نہ ہی اللہ تعالی کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنائیں پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں )
آل عمران / 64
نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف ہی دعوت دی تھی ۔
فرمان ربانی ہے :
( ہم نے نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالی کی عبادت کرو تمہارے لۓ اس کے علاوہ کوئی معبود ہونے کے قابل نہیں مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ( الاعراف / 59
وہی اللہ وحدہ ہے جس کی عبادت کی پکار عیسی علیہ السلام نے لگائی تھی ۔
فرمان باری تعالی ہے :
( بے شک وشبہ وہ لوگ کافر ہوئےجنہوں نے یہ کہا کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے حلانکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تم سب کا رب ہے یقین جانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس پر اللہ تعالی نے جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور ظالموں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہو گا ) المآئدہ / 72
اور رب جل جلالہ کا فرمان ہے :
( اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اللہ تعالی فرمآئے گا کہ اے عیسی بن مریم کیا تم نے ان لوگوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو عیسی (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ اللہ تو غیبوں سے پاک ہے مجھے یہ کسی طرح بھی زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں اگر میں نے کہا ہو گا تو تجھ کو اس کا علم ہو گا تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا بیشک تو تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے میں نے انہیں وہی کہا جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم اللہ تعالی کی عبادت اور اس کی بندگی اختیار کرو جو کہ میرا اور تمہارا رب ہے میں تو ان پر اس وقت تک گواہ رہا جب تک کہ میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر مطلع رہا ہے اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھنے والا ہے ) المائدۃ / 116 – 117
اور جب اللہ تعالی سے اس کے نبی موسی علیہ السلام نے بات کی تو اللہ تعالی نے انہیں فرمایا :
( بےشک میں تیرا الہ ہوں میرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کے لۓ نماز قائم کر ) طہ / 14
اور اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مندرجہ ذیل حکم دیا :
( کہہ دیجۓ اے لوگو اگر تمہیں میرے دین میں کوئی شک وشبہ ہے تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کوچھوڑ کر عبادت کرتے ہو لیکن ہاں میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں فوت کرتا ہے اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں ایمان دار مومنوں میں سے ہو جاؤں ) یونس / 104
اور وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں فرشتے اس کی عبادت کرتے اور کسی کی نہیں۔
جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے :
( آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اور نہ ہی تھکتے ہیں ) الانبیاء / 19
اللہ تعالی کے علاوہ جتنے بھی معبود ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے وہ نہ تو نفع اور نقصان کے مالک ہیں اور نہ ہی پیدا کرنے اور رزق دینے کی طاقت رکھتے ہیں ۔
ارشاد باری تعالی ہے :
( آپ کہہ دیجۓ کہ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نفع اور نہ ہی نقصان کے مالک ہیں اللہ ہی خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے ) المائدۃ / 76
اور فرمان باری تعالی ہے :
( تم تو اللہ تعالی کے سوا بتوں کی عبادت اور پوجا کر رہے ہو اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو سنو جن جن کی تم اللہ تعالی کے علاوہ عبادت کر رہے ہو وہ تو تمہاری روزی کے مالک نہیں بس تمہیں چاہۓ کہ تم اللہ تعالی سے ہی روزی طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری کرو اور اس کی طرف لوٹآئے جاؤ گے ) العنکبوت / 17
ہم صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ :
اول – کیونکہ اس پورے جہان میں اگر کوئی عبادت کا مستحق ہے وہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے کیونکہ وہی خالق اور رازق ہے جس نے ہمیں عدم سے وجود دیا اور ہمارے اوپر بے شمار نعمتیں کیں ۔
فرمان باری تعالی ہے :
( پس جب تم صبح کرو اور شام کرو تو اللہ تعالی کی تسبیح بیان کیا کرو ) 17
( تمام تعریفوں کے لائق آسمان وزمین میں صرف وہی ہے تیسری پہر اور ظہر کو بھی اس کی حمد بیان کیا کرو ) 18
وہی زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہی ہے جو زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے اسی طرح تم بھی نکالے جا‏ؤ گے ) 19
( اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر چلنے پھرنے لگے اور پھیل رہے ہو ) 20
( اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہاری بیویاں پیدا کیں تا کہ تم ان سے آرام اور سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت وہمدردی قائم کر دی یقینا غور و فکر کرنے والوں کے لۓ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ) 21
( اور اس کی نشانیوں میں سے تمہاری راتوں اور دن کی نیند اور تمہارا اس کے فضل کو ( یعنی روزی ) تلاش کرنا بھی ہے جو لوگ ( کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لۓ اس میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں ) 23
( اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امید کے لۓ بجلیاں دکھاتا اور آسمان سے بارش برسا کر اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے اس میں بھی عقلمندوں کے لۓ بہت سی نشانیاں ہیں ) 24
( اور اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان وزمین اسی کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تمہیں آواز دے گا تو صرف ایک بار ہی آواز کے ساتھ تم سب زمین سے نکل آؤ گے ) 25
( اور زمین وآسمان کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے ) 26
( اور وہی ہے جس نے پہلی بار مخلوق کو پیدا کیا پھر اسے دوبارہ لوٹآئے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے اسی کی آسمان وزمیں اعلی صفت ہے اور وہ غلبے اور حکمت والا ہے ) الروم / 27
اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے :
( بھلا بتاؤ تو ؟ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ اور تمہارے لۓ آسمان سے بارش کس نے برسائی ؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دۓ ان باغوں اور درختوں کو تم ہر گز نہیں اگا سکتے تھے کیا اللہ تعالی کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ بلکہ یہ لوگ ( سیدھی راہ سے ) ہٹ جاتے ہیں ) 60
( کس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کر دیں اور اس کے لۓ پہاڑ بنآئے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنا دی کیا اللہ تعالی کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ بلکہ ان میں سے اکثر تو کچھ بھی نہیں جانتے ) 61
( کون ہے جو بے کس اور لاچار کی پکار کو سنتا اور اس کی سختی کو دور کرتا ہے ؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا اللہ تعالی کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ تم تو بہت ہی کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو ) 62
( کون ہے جو تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راہ دکھاتا ہے ؟ اور جو اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے ؟ کیا اللہ تعالی کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟جنہیں یہ اللہ تعالی کے ساتھ شریک کرتے ہیں ان سب سے اللہ بلند وبالا تر ہے ) 63
( کون ہے جو مخلوق کی پہلی دفعہ پیدائش کرتا ہے پھر اسے لوٹآئے گا ؟ اور جو تمہیں آسمان وزمین سے روزیاں دے رہا ہے ؟ کیا اللہ تعالی کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ کہہ دیجۓ کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ ) 64
( کہہ دیجۓ کہ آسمان والوں اور زمین والوں میں سے اللہ کے علاوہ کوئی بھی غیب نہیں جانتا اور انہیں تو یہ بھی علم نہیں کہ انہیں اٹھایا کب جائے گا ) النمل / 65
تو پھر کیا اللہ کے علاوہ کوئی ایسا ہے جو کہ عبادت کا مستحق ہو ؟
دوم : اللہ تعالی نے ہمیں اپنی عبادت کے علاوہ کسی اور چیز کے لۓ پیدا نہیں کیا ۔
فرمان باری تعالی ہے :
( میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لۓ پیدا کیا ہے ) الذاریات / 56
سوم: قیامت کے دن صرف وہی نجات پآئے گا جو کہ اللہ تعالی کی عبادت حقیقی طور پر کرتا ہو گا )
اور موت کے بعد اللہ تعالی بندوں کو دوبارہ اٹھآئے گا تا کہ ان کا حساب کیا جائے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے تو اس دن نجات وہی حاصل کرے گا جو کہ اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتا ہو گا اور باقی لوگوں کو جہنم کی طرف اکٹھا کر دیا جائے گا اور جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔
جب صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آیا ہم قیامت کے دن اللہ عزوجل کو دیکھیں گے ؟ تو اسلام کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا :
( جب مطلع صاف ہو تو کیا تمہیں سورج اور چاند کو دیکھنے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے تو صحابہ نے کہا کہ بالکل نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس دن اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی مشکل نہیں اٹھاؤ گے جس طرح کہ ان دونوں کے دیکھنے میں کوئی تکلیف نہیں اٹھاتے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک منادی کرنے والا آواز لگآئے گا کہ ہر قوم اس کی طرف چلی جائے جس کی وہ عبادت کرتے تھے تو صلیبی صلیب کے ساتھ اور بتوں کی پوجا کرنے والے بتوں کے ساتھ اور ہر ایک اپنے معبود کے ساتھ حتی کہ وہ لوگ جو کہ اللہ تعالی کی عبادت کرتے تھے ان نیک اور فاجر اور اہل کتاب میں سے بچے کھچے رہ جائیں گے پھر جہنم پر لا کر ایسے پیش کی جائے گی کہ جیسے سراب ہو تو یہودیوں کو کہا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے وہ جواب دیں گے اللہ کے بیٹے عزیر کی عبادت کرتے تھے تو انہیں جواب میں کہا جائے گا تم جھوٹ بول رہے ہو اللہ کی کوئی بیوی اور بیٹا نہیں تم کیا چاہتے ہو وہ کہیں گے کہ ہمیں پانی پلاؤ تو انہیں کہا جائے گا پیو تو وہ جہنم میں گرا دیے جائیں گے پھر عیسائیوں کو کہا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے تو وہ جواب دیں گے اللہ کے بیٹے مسیح کی عبادت کرتے تھے تو انہیں جواب میں کہا جائے گا تم جھوٹ بول رہے ہو اللہ کی کوئی بیوی اور بیٹا نہیں تو کیا چاہتے ہو وہ کہیں گے ہمیں پانی پلا دو تو انہیں کہا جائے گا پیو تو وہ جہنم میں گرا دۓ جائیں گے حتی کہ نیک اور فاجر جو کہ اللہ تعالی کی عبادت کرتے تھے وہ باقی بچ جائیں گے تو انہیں کہا جائے گا تمہیں کس نے روک رکھا ہے حلانکہ سب لوگ جا چکے ہیں تو وہ جواب دیں گے ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے اور ہم آج کے دن اس کے زیادہ ضرورت مند ہیں ہم نے ایک منادی کرنے والے کو سنا جو کہ حق کی آواز لگا رہا تھا کہ ہر قوم جس کی عبادت کرتی رہی ہے وہ اس کے ساتھ مل جائے اور ہم اپنے رب کا انتظار کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان کے پاس اللہ تعالی آئے گا اور کہے گا میں تمہارا رب ہوں تو وہ کہیں گے تو ہمارا رب ہے تو اس سے انبیاء کے علاوہ کوئی بھی بات نہیں کرے گا تو ہر مومن شخص اسے سجدہ کرے گا )
صحیح بخاری حدیث نمبر 6776
اور یہ مومن ہی جنتی ہوں گے جن پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے اور وہ اس جنت میں ہمیشہ ہمشہ رہیں گے ۔
ہم امید کرتے ہیں یہ معاملہ واضح ہو گیا ہو گا اور اس کے بعد اور کچھ تو نہیں کہتے صرف اتنا ہی جو کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :
(جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے لۓ ہی اور جو گمراہ ہو جائے اس کا وبال اس پر ہی ہے ) الاسراء / 15
اور سلامتی اس پر ہے جو کہ ہدایت کی اتباع کرتا ہے ۔
واللہ اعلم .
Read More »

اسے وسوسے اور خطرات بے قرار کر دیتے ہیں



2577825778 - اسے وسوسے اور خطرات بے قرار کر دیتے ہیں


جب میں نماز پڑھتا اور کسی بھی اچھے کام کی نیت کرتا ہوں تو مجھے شیطانی سوچیں گھیر لیتی ہیں اور جب میں نماز میں دھیان رکھنے اور کلمات کے معانی پر غور کرنے کی کوشش کرتا ہوں میری عقل اور ذہن میں شیطانی سوچیں داخل ہو جاتی اور ہر چیز کے متعلق برے اعتراضات پیدا ہوتے ہیں اور میں اس وجہ سے غصہ محسوس کرتا ہوں ۔ 
مجھے اس بات کا علم ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور توبہ قبول کرنے والا نہیں لیکن میں اپنی ان سوچوں کے سبب محسوس کرتا ہوں کہ اس سے برا کوئی نہیں جو کہ میرے ذہن میں اللہ تعالی کے متعلق برے برے خیالات آتے ہیں میں نماز کے بعد اللہ تعالی سے دعائے مغفرت کرتا ہوں لیکن تنگی محسوس کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ان بری سوچوں کو روک لوں لیکن اس کی طاقت نہیں رکھتا میں نماز کا سرور اور لطف نہیں پا سکتا اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں منحوس ہوں آپ سے میری گذارش ہے کہ مجھے نصیحت فرمائیں ۔
:.الحمد للہ 
نماز وغیرہ میں برے وسوسے وغیرہ آنا یہ شیطان کی طرف سے ہے جو کہ مسلمان کو گمراہ کرنے اور خیر اور بھلائی سے محروم اور اس سے دور کرنے پر حریص ہے ۔
صحابہ میں سے ایک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ اسے نماز میں وسوسے آتے ہیں تو وہ کہنے لگا کہ میرے اور میری نماز کے درمیان شیطان حائل ہو جاتا اور میری قرابت کو مجھ پر خلط ملط کر دیتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( یہ شیطان ہے اسے خنزب کہتے ہیں جب آپ محسوس کریں تو اس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کریں اور بائیں طرف تین دفعہ تھوکیں تو صحابی کہتے ہیں کہ میں نے یہ عمل کیا تو اللہ تعالی نے یہ وسوسے ختم کر دیۓ ) صحیح مسلم حدیث نمبر 2203
نماز میں خشوع وخضوع ہی اصل چیز اور لب لباب ہے تو نماز خشوع کے بغیر نماز ایسے ہی ہے جیسے کہ بغیر روح کے جسم ہو ۔
خشوع کے لۓ ممد اور معاون دو چیزیں ہیں :
اول : بندہ یہ سوچنے اور سمجھنے میں جدوجہد کرے کہ وہ کیا عمل کرنے لگا اور کیا کہنے لگا ہے اور قرات اور اللہ تعالی کے ذکر اور دعا مانگنے میں غور و فکر اور تدبر کرنا اور یہ بات ذہن میں رکھنا کہ وہ اللہ تعالی سے سرگوشی اور مناجات کر اور اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہے کیونکہ نمازی شخص جب کھڑا نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو گویا کہ وہ اپنے رب سے مناجات اور سرگوشیاں کر رہا ہے اور احسان یہ ہے کہ آپ اللہ تعالی کی عبادت ایسے کریں کہ گویا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں اور اگر آپ اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ آپ کو دیکھ رہا ہے ۔
پھر جب بندہ نماز کی لذت اور مٹھاس چکھتا ہے تو اس کا نماز میں انہماک یقینی اور زیادہ ہو جاتا ہے اور یہ ایمان کی قوت کے مطابق ہے کہ جتنا ایمان قوی ہو گا اتنی لذت اور مٹھاس زیادہ حاصل ہو گی – اور ایمان کو قوی کرنے والی بہت سی اشیاء ہیں – تو اسی لۓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
( میرے لۓ تمہاری دنیا میں سے دو چیزیں پیاری بنائی گئي ہیں عورتیں اور خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئي ہے )
اور دوسری حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( اے بلال ( رضی اللہ عنہ ) ہمیں نماز کے ساتھ راحت دے )
دوم : ان سوچوں اور تفکرات کو دفع اور دور اور ختم کرنے کی جدوجہد کرنا جو کہ دل کو مشغول کر دیں اور جن کا کوئی فائدہ نہ ہو اور ان چیزوں پر غور و فکر کرنا جو کہ دل میں نماز کے مقصد کی جاذبیت پیدا کریں اور یہ ہر بندے میں اس کے حال ہیں کیونکہ وسوسوں کی کثرت شبہات اور شہوات کی کثرت کی بنا پر ہیں اور دل کا تعلق ان محبوب چیزوں سے ہونا جو کہ دل کو انہیں حاصل کرنے کے لۓ پھیر دیں اور ان مکروہات کی طرف جو کہ دل کو انہیں دور کرنے کی طرف پھیر دیں ۔
انتہی : مجموع فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جلد نمبر 22 صفحہ نمبر 605
اور جو آپ نے یہ ذکر کیا ہے کہ وسوسے حد سے تجاوز کر چکے ہیں اور یہاں تک جا پہنچے ہیں کہ اللہ تعالی کی ذات میں بھی ہونے لگے ہیں جو اللہ تعالی کے لائق نہیں تو یہ شیطان کا ورغلانا اور اکسانا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :
( اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ ائے تو اللہ کی پناہ طلب کرو یقینا وہ بہت ہی سننے والا جاننے والا ہے ) فصلت / 36
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض صحابہ کرام نے ان وسوسوں کی شکایت کی جنہوں نے ان کی زندگی اجیرن کر دی تھی تو صحابہ میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ائے اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے لگے کہ ہم اپنے نفسوں میں ایسی چیز پاتے ہیں جن کا زبان پر لانا بہت مشکل ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ ایسا پاتے ہیں تو صحابہ نے جواب دیا جی ہاں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی صریح ایمان ہے ۔
اسے مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے حدیث نمبر 132
امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئےلکھتے ہیں :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان (یہی صریح ایمان ہے ) اس کا معنی یہ ہے کہ تمہارا ان وسوسوں کی کلام نہ کرنا اور انہیں زبان پر نہ لانا اور اسے برا جاننا یہی صریح ایمان ہے ۔
بے شک اسے بہت برا سمجھنا اور اس کو زبان پر لانے سے خوف زدہ ہونا چہ جائکہ اس کا اعتقاد رکھنا تو یہ حالت اس کی ہوتی ہے جس کا ایمان کامل اور محقق ہو اور اس سے شکوک و شبہات ختم ہو چکے ہوں ۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ :
شیطان وسوسے اسے ڈالتا ہے جس کے گمراہ کرنے سے وہ عاجز آچکا ہو تو اسے وسوسے میں ڈالتا ہے تا کہ وہ اپنے عاجز آنے کا بدلہ چکا سکے اور کافر کو تو جس طرح چاہے اور اس سے کھیلتا پھرے اور اسے وسوسے نہیں ڈالتا کیونکہ وہ جو چاہتا ہے اس کے ساتھ کرتا ہے ۔
اور اس بناء پر حدیث کا معنی یہ ہو گا کہ وسوسے کا سبب خالص ایمان ہے یا پھر وسوسہ خالص ایمان کی نشانی ہے ۔ انتہی دیکھیں سوال نمبر 12315
تو پھر اسے نا پسند اور بغض کرنا اور دل کا اس سے بھاگنا یہی خالص اور صریح ایمان ہے اور ہر وہ شخص جو کہ اللہ تعالی کے ذکر اور اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اسے وسوسہ آنا ضروری چیز ہے لہذا بندے کو صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا چاہۓ اور اسے نماز اور ذکر واذکار پر ملازمت اور ہمیشگی کرنا چاہۓ اور تنگ دل نہیں ہونا چاہۓ کیونکہ ان چیزوں پر ہمیشگی اور ملازمت سے شیطان کے ہتھکنڈے دور ہو جائیں گے ۔
( بے شک شیطان کے ہتھکنڈے اور تدبیریں کمزور ہیں )
جب بھی بندہ دلی طور پر اللہ تعالی کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو دوسرے کاموں کے وسوسے آنے شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ شیطان اس ڈاکو کی طرح ہے جو کہ راستے میں بیٹھا ہو تو جب بھی بندہ اللہ تعالی کی طرف چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ شیطان اس کا راستہ کاٹنے کی کوشش کرتا ہے تو اسی لۓ سلف میں سے کسی کو یہ کہا گیا ہے کہ یہودی اور عیسائی یہ کہتے ہیں کہ ہمیں وسوسے نہیں آتے تو انہوں نے جواب دیا وہ سچے ہیں تو شیطان خراب گھر میں جا کر کیا کرے گا ۔شیخ الاسلام کی بات ختم ہوئی فتاوی شیخ الاسلام جلد نمبر 22 صفحہ نمبر 608
علاج :
1- جب آپ ان وسوسوں کو محسوس کریں تو یہ کہیں میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( تم میں کسی کے پاس شیطان آتا اور اسے کہتا ہے کہ تجھے کس نے پیدا کیا تو وہ جواب دیتا ہے اللہ تعالی نے تو شیطان کہتا ہے کہ اللہ تعالی کو کس نے پیدا کیا ہے تو جب تم میں سے کوئی اس طرح کی بات پائے تو یہ پڑھے ( آمنت باللہ ورسلہ ) میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا کیونکہ یہ اس سے وسوسہ ختم کر دے گا )
مسند احمد حدیث نمبر ( 25671) علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلہ صحیحہ میں حسن کہا ہے حدیث نمبر 116
2- اس معاملے میں سوچنے سے حتی الامکان اعراض کرنے اور بچنے کی کوشش کرے اور کسی ایسے کام میں مشغول ہو جائے جو اسے اس سے ہٹا دے ۔
اور آخر میں ہم آپ کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ ہر حال میں اللہ تعالی کی طرف رجوع کرو اور اس سے مدد طلب کرو اور سب کو چھوڑ کر اسی کی طرف متوجہ رہو اور اس سے موت تک کے لۓ ثابت قدمی طلب کرتے رہو اور یہ کہ وہ آپ کا خاتمہ اچھے کام پر کرے ۔
واللہ اعلم .
Read More »

اللہ تعالي كي اپنےبندوں پر رحمت



20468: اللہ تعالي كي اپنےبندوں پر رحمت


اللہ تعالي بہت زيادہ رحم كرنےوالا ہے، ميں نےسنا ہے كہ اللہ تعالي ہمارے ساتھ ايك ماں كي اپنےبيٹے سےستر گنا زيادہ محبت كرتا ہے، كيا يہ صحيح ہے، برائےمہرباني اس كي تشريح كرديں ؟
:الحمد للہ 
اللہ سبحانہ وتعالي بڑا مہربان اور نہائت رحم كرنےوالا ہے، اور وہ سب رحم كرنےوالوں سےزيادہ رحم كرنےوالا ارحم الراحمين ہے، جس كي رحمت ہر چيز پر وسيع ہے.
اللہ سبحانہ وتعالي كا فرمان ہے:
{اورميري رحمت ہر چيز كو وسيع ہے} الاعراف ( 156 ).
اور صحي مسلم ميں ابوہريرہ رضي اللہ تعالي عنہ سےحديث مروي ہے كہ: رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
( اللہ كےلئےسورحمتيں ہيں ان ميں سےايك رحمت نازل فرمائي ہے جس كےساتھ جن وانس اور جانور اور چوپائے اور كيڑے مكوڑے ايك دوسرے پر رحم اور نرمي كرتےہيں، اور اللہ تعالي نے ننانويں رحمتيں اپنےلئےركھيں جن كےساتھ وہ روز قيامت اپنےبندوں پر رحم كرےگا ) صحيح مسلم ( 6908 ) .
اور عمر بن خطاب رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ:
( رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےپاس كچھ قيدي لائےگئے اور ان قيديوں ميں سےايك عورت كچھ تلاش كررہي تھي كہ اس نے قيديوں ميں بچہ پايا تواسے لےكر اپنے سينے سےچمٹايا اور دودھ پلانےلگي، تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےہميں فرمايا: كيا تمہارےخيال ميں يہ عورت اپنےبيٹے كو آگ ميں ڈال دےگي؟ تو ہم نے عرض كيا اللہ كي قسم نہيں، وہ اس پر قادر ہے كہ اسے آگ ميں نہيں ڈالے، تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
اللہ تعالي اپنےبندوں كےساتھ اس عورت كےاپنےبيٹےپررحم كرنےسےبھي زيادہ رحم كرنےوالا ہے ) صحيح بخاري ( 5653 ) صحيح مسلم ( 69121 ) .
اور اللہ تعالي كي اپنےبندوں پر رحمت ہي ہےكہ اس نے رسول مبعوث كئے اور كتابيں اور شريعتيں نازل فرمائيں تاكہ ان كي زندگي سنور سكےاور وہ تنگي وتكليف اور گمراہي سے رشد وہدايت كي طرف نكل آئيں.
فرمان باري تعالي ہے:
{اور ہم نےآپ كو سب جہانوں كےلئےرحمت بنا كر بھيجا ہے}الانبياء ( 107 ) .
اوراللہ تعالي كي رحمت ہي روز قيامت اس كےمومن بندوں كو جنت ميں داخل كرے گي، كوئي شخص بھي اپنےاعمال كي بنا پر جنت ميں داخل نہيں ہوگاجيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرماياہے:
( كسي شخص كوبھي اس كا عمل جنت ميں داخل نہيں كرےگا، صحابہ كرام نےعرض كيا اے اللہ كےرسول صلى اللہ عليہ وسلم آپ بھي نہيں؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
ميں بھي نہيں الا يہ كہ اللہ تعالى مجھے اپنےفضل اور رحمت سے ڈھانپ لے، لھذا درميانہ راہ اختيار كرواور افراط وتفريط سےبچو، اور تم ميں سے كوئي بھي موت كي تمنا نہ كرے اگر تووہ نيكي كرنےوالا ہے تو خيروبھلائي زيادہ كرے گا اوراگر گنہگار ہے تو ہوسكتا ہے توبہ كرلے ). صحيح بخاري حديث نمبر ( 5349 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 7042 ) .
اور مومن شخص كو چاہئےكہ وہ اللہ تعالي سےاس كي رحمت اميد اور اس كےعذاب كا خوف ركھےاسےان دونوں كےمابين رہنا چاہئے، كيونكہ اللہ تعالي كا فرمان ہے:
{ميرے بندوں كو بتا دو كہ ميں بخشنےوالا اور رحم كرنےوالا ہوں، اور ميرا ساتھ ہي ميرا عذاب ہي دردناك عذاب ہے} الحجر ( 49 - 50 ).
اور آپ كا يہ كہنا كہ " اللہ تعالي ہمارے ساتھ ايك ماں كا اپنےبچے سے محبت كرنےسےسترگناسےبھي زيادہ محبت كرتا ہے" اس كےبارہ ميں اللہ ہي زيادہ علم ركھتا ہے، ہمارےلئےاتنا ہي جاننا كافي ہے كہ اللہ تعالي كي رحمت ہر چيز كو وسيع ہے، اے اللہ اپني رحمت كےساتھ ہم پر رحم فرما تو سب رحم كرنے والوں سےزيادہ رحم كرنےوالا ہے.
واللہ اعلم .
Read More »

اللہ پر ايمان لانے كا معنى



34630: اللہ پر ايمان لانے كا معنى


ميں نے اللہ تعالى پر ايمان لانے كے بہت فضائل سنے اور پڑھے بھي ہيں، ميرى آپ سے گزارش ہے كہ اللہ تعالى پر ايمان كا معنى كيا ہے اس كے متعلق كچھ روشنى ڈاليں تا كہ ميں اس پر عمل كرسكوں، جو مجھے نبى صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام كے منھج كي مخالفت سے دور ركھے ؟
:الحمد للہ 
اللہ تعالى پر ايمان يہ ہے كہ اللہ تعالى كے وجود پر يقين جازم ہو اور اس كي ربوبيت اور الوہيت اور اسماء صفات پر بھي يقين جازم ہو.
اللہ تعالى پر ايمان چار امور پر مشتمل ہے، جو شخص بھي ان پر ايمان ركھے وہ پكا اور سچا اور حقيقى مومن ہے:
اول: اللہ تعالى كے وجود پر ايمان:
اللہ تعالى كے وجود پر عقل اور فطرۃ بھي دلالت كرتى ہے چہ جائے كہ اس كے وجود پر شرعى دلائل بہت زيادہ ہيں:
1 - اللہ تعالى كي موجودگى پر فطرتى دليل: ہر مخلوق فطرتى طور پر اپنے بغير كسي سوچ يا تعليم كے اپنےخالق پر ايمان ركھتى ہے، اور اس فطرت كے مقتضى سے اسے كوئي بھي عليحدہ نہيں كرسكتا ليكن جس كے دل پر كوئي ايسى چيز آجائے جو اسے اس سے دور كر دے.
اسي ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پيدا ہوتا ہے ليكن اس كے والدين يا تو اسے يہودي بنا ديتےہيں يا پھر عيسائي يا مجوسي " صحيح بخاري حديث نمبر ( 1358 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2658 ) .
2 - اور اللہ تعالى كے وجود پر عقلى دليل يہ ہے كہ: يہ سارى مخلوق جو پہلے تھى اور آنے والے ہے اس كا ضرور كوئى خالق ہے جس نے اسے مخلوق كو عدم سے وجود ديا، كيونكہ يہ تو ممكن ہى نہيں كہ مخلوق اپنے نفس كي خود موجود ہو.
اس مخلوق كے لئے ممكن نہيں كہ وہ اپنے آپ نفس كو خود ہي وجود ميں لے آئے كيونكہ كوئي چيز اپنے آپ كو پيدا نہيں كرسكتى اور نہ ہي يہ ممكن ہے، كيونكہ اس كے وجود سے قبل وہ معدوم اور تھي ہى نہيں تو پھر وہ خالق كيسے ہو سكتى ہے؟ !
اور يہ بھي ممكن نہيں كہ وہ حادثاتى طور پر ہو، كيونكہ ہر حادث كا كوئي محدث ہونا ضروري ہے، اور اس لئے كہ اس بديع اور محكم نظام ميں اس كا موجود ہونا اسباب اور مسبب ميں ربط ہے، اور كائنات كا بعض كے ساتھ بعض كا ربط اور تعلق اس ميں قطعى مانع ہے كہ يہ حادثاتى طور پر وجود ميں آيا ہو كيونكہ اس كا وجود اصلا نظام ميں ہے ہي نہيں تو پھر يہ باقى رہنے كي صورت ميں منتظم كيسے ہوسكتا ہے؟
لھذا جب نہ تو يہ ممكن ہے كہ يہ مخلوقات اپنے نفس كو خود وجود دے سكتى ہيں اور يہ بھي ممكن نہيں كہ حادثاتى طور پر بھي وجود ميں نہيں آئيں تو پھر اس كا تعين ہوا كہ اس كا كوئي موجد ہے اور وہ اللہ رب العالمين ہے.
اللہ تعالى نے يہ عقلى دليل اور قطعى برہان سورہ طور ميں ذكر كرتے ہوئے فرمايا:
كيا يہ بغير كسي ( پيدا كرنے والے ) كے خود بخود پيدا ہو گئے ہيں؟ يا يہ خود پيدا كرنے والے ہيں؟ الطور ( 35 ) .
يعنى وہ بغير كسي خالق كے پيدا نہيں ہوئے، اور نہ ہى انہوں نے اپنے آپ كو خود پيدا كيا ہے تو يہ تعين ہو گيا كہ ان كا خالق اللہ تعالى تبارك وتعالى ہى ہے.
اور اسي لئے جب جبير بن مطعم نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو سورۃ الطور كي تلاوت كرتے ہوئے سنا اور جب وہ اس آيت پر پہنچے:
{كيا يہ بغير كسي ( پيدا كرنے ) والے كے خود بخود پيدا ہو گئے ہيں؟ يا يہ خود پيدا كرنے والے ہيں؟ كيا انہوں نے ہى آسمان وزمين كو پيدا كيا ہے؟ بلكہ يہ يقين نہ كرنے والے لوگ ہيں، يا كيا ان كے پاس تيرے رب كے خزانے ہيں ؟ يا يہ ان خزانوں كے داروغہ ہيں؟} الطور ( 35 - 37 )
اورجبير اس وقت مشرك ہونے كےباوجود كہنے لگے: ميرا دل نكل كر اڑنے لگا اور يہ ميرے دل ميں ايمان كي سب سے پہلى كرن تھى. اسے امام بخاري رحمہ اللہ تعالى نے كئي ايك مقام پر بيان كيا ہے.
اس كي مزيد وضاحت كے لئے ہم ايك مثال بيان كرتےہيں:
اگر كوئي شخص آپ كو ايك پختہ محل كي كے متعلق بتائے جسے باغات نے گھير ركھا اور اس كے درميان نہريں جاريں ہوں اور وہ محل قالينوں اور پلنگوں سے بھرا ہوا ہو اور كئي قسم كي زينت والى اشياء سے مزين كيا گيا ہو تو وہ شخص كہے كہ يہ محل اور اس ميں جو كچھ ہے اس نے اپنے آپ كو خود بنايا ہے يا يہ حادثاتى طور پر بغير كسي موجود كے ہى بن گيا، تو آپ فورا انكار كريں گے اور اسے جھوٹا اور كذاب قرار ديں گےاور اس كي اس بات كو بے وقوفي قرار دينگے.
تو كيا اس كے بعد اس وسيع آسمان وزمين اور يہ سارا فلك جو ظاہر اور محكم اور مضبوط ہے اس نے كيا اپنےآپ كو خود وجود ديا ہے يا يہ سب كچھ حادثاتى طور پر بغير كسي موجد كے ہي بن گيا ہے؟
اور اس دليل كو تو ايك صحراء ميں رہنے والا خانہ بدوش سمجھ گيا اور اس نے اسے اپنے اسلوب ميں بيان كيا، جب كسي نے اس سے پوچھا كہ تو نے اپنے رب كو كيسے پہچانا؟
تو اس خانہ بدوش كا جواب تھا: اونٹ كي مينگنى اونٹ پر دلالت كرتى ہے اور پاؤں كے نشانات چلنے كي دليل ہيں، تو برجوں والا آسمان اور راستوں والى زمين اور موجوں والے سمندر كيا يہ سننے اور ديكھنے والے پر دلالت نہيں كرتے؟ !!
دوم: اللہ تعالى كي ربوبيت پر ايمان:
يعني يہ ايمان ركھنا كہ وہ رب اكيلا ہے اس كا كوئي شريك نہيں اور نہ ہى اس كا كوئي معين ومددگار ہے.
اور رب وہ ہے جس كى مخلوق، اور بادشاہي ہو اور وہ مدبر ہو اور تدبير اسى كى ہے، اللہ تعالى كے علاوہ خالق كوئي نہيں اور نہ ہى اللہ كے سوال كوئي مالك ہے اور امور كي تدبير كرنے والا اللہ كے سوا كوئي نہيں.
فرمان بارى تعالى ہے:
{ياد ركھو اللہ ہى كے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاكم ہونا} الاعراف ( 54 )
اور ايك مقام پر اس طرح فرمايا:
{آپ كہہ ديجئے كہ وہ كون ہے جو تم كو آسمان اور زمين سے روزى ديتا ہے يا وہ كون ہے جو كانوں اور آنكھوں پر پورا اختيار كرتا ہے اور وہ كون ہے جو زندہ كو مردہ سے نكالتا ہے اور مردہ كو زندہ سے نكالتا ہے اور وہ كون ہے جو تمام كاموں كي تدبير كرتا ہے ؟ وہ ضرور يہى كہيں گے كہ اللہ ، تو ان سے كہيں كہ پھر تم كيوں نہيں ڈرتے} يونس ( 31 ) .
اور ايك مقام پر فرمايا:
{وہ آسمان سے لے كر زمين تك ہر كام كي تدبير كرتا ہے پھر وہ اسى كي طرف چڑھ جاتا ہے} السجدۃ ( 5 ) .
اور ايك مقام پر ارشاد ربانى ہے:
{يہى ہے اللہ تم سب كو پالنے والا اسى كي سلطنت ہے، اور جن كوتم اللہ كے سوا پكار رہے ہو وہ تو كھجور كي گٹھلى كے چھلكے كے بھى مالك نہيں} فاطر ( 13 ).
اور سورۃ فاتحہ ميں اللہ تعالى كے اس فرمان {وہ جزا كے دن كا مالك ہے} الفاتحۃ ( 4 ) پر غور كريں اور متواتر قرات ميں ملك يوم الدين بھي آيا ہے كہ وہ يوم جزا كا بادشاہ ہے، اور جب ان دونوں قراتوں كو جمع كريں تو بديع معنى ظاہر ہو گا، لھذا ملك سلطہ و قوت ميں مالك سے زيادہ بليغ معنى ہے ليكن بعض اوقات بادشاہ صرف نام كا ہى بادشاہ ہوتا ہے نہ كر تصرف كا، يعني وہ كسي چيز ميں تصرف كي قدرت نہيں ركھتا، تو اس وقت ملك تو ہے ليكن مالك نہيں اور جب يہ دونوں جمع ہو گئے كہ اللہ تعالى مالك بھى ہے اور بادشاہ بھى تو يہ تدبير اور ملك سے يہ معاملہ پورا ہوگيا.
سوم: اللہ تعالى كي الوہت پر ايمان:
يعنى وہ معبود برحق ہے اس كا كوئي شريك نہيں.
اور الہ مالوہ يعنى معبود كے معنى ميں ہے مبحت اور تعظيم ميں، اور لا الہ الا اللہ كا بھي يہى معنى ہے: يعنى اللہ تعالى كےسوا كوئي حقيقى معبود نہيں: اللہ تعالى كا فرمان ہے:
{اور تمہارا معبود ايك ہى ہے اس كے علاوہ كوئي معبود نہيں وہ رحمن بھى اور رحيم بھي} البقرۃ ( 163 ) .
اور ايك دوسرے مقام پر اس طرح فرمايا:
{اللہ تعالى، فرشتے، اور اہل علم اس بات كي گواہي ديتے ہيں كہ اللہ تعالى كے سوا كوئي معبود برحق نہيں اور وہ عدل كو قائم ركھنے والا ہے، اس غالب اور حكمت والے كے سوا كوئي عبادت كے لائق نہيں} آل عمران ( 18 )
اور اللہ تعالى كے ساتھ اللہ كے علاوہ جس كو بھي الہ اور معبود بنايا جائے اور اس كي عبادت كي جائے تواس كي الوہي باطل ہے.
فرمان بارى تعالى ہے:
{يہ سب اس ليے كہ اللہ ہى حق ہے اور اس كے سوا جسے بھى يہ پكارتے ہيں وہ باطل ہے ، بيشك اللہ تعالى بلندى والا اور كبريائى والا ہے} الحج ( 62 )
اور انہيں معبود اور الہ كا نام دينے سے انہيں الوہيت كا حق حاصل نہيں ہوجاتا، اللہ تعالى نے ( لات اور عزى اورمناۃ ) كے بارہ ميں فرمايا:
{يہ تو سوائے ناموں كے كچھ نہيں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ركھ ليے ہيں اللہ تعالى نے ان كي كوئي دليل نہيں اتارى} النجم ( 23 ).
اور اللہ تعالى نے يوسف عليہ السلام كے بارہ ميں فرمايا كہ انہوں نے اپنے قيدى ساتھيوں سے كہا:
{اے ميرے قيد خانے كےساتھيو! كيا متفرق كئي ايك پروردگا بہتر ہيں ؟ يا ايك اللہ زبردست طاقت ور؟
اس كے سوا تم جن كي پوجا پاٹ كر رہے ہو وہ سب نام ہى نام ہيں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہى گھڑ ليے ہيں اللہ تعالى نے اس كي كوئي دليل نازل نہيں فرمائى} يوسف ( 40 )
لھذا كوئي بھي عبادت كا مستحق نہيں صرف ايك اللہ ہى كي عبادت كي جائےگي اس كےعلاوہ كسي كي نہيں، اور اس حق ميں كوئي ايك بھي شريك نہيں ہو سكتا، نہ تو كوئي مقرب فرشتہ اور نہ ہى كو مبعوث كردہ رسول اور نبى، اسى ليے سب انبياء كرام كي دعوت اول سے ليكر آخرتك يہى تھى كہ لا الہ الا اللہ اللہ تعالى كي علاوہ كوئي معبود برحق نہيں.
فرمان بارى تعالى ہے:
{اور آپ سے قبل جو نبى بھي ہم نے بھيجا اس كي طرف يہى وحى كي كہ ميرے علاوہ كوئي معبود برحق نہيں لھذا ميرى ہى عبادت كرو} الانبياء ( 25 )
اور ايك مقام پر فرمايا:
{ہم نے ہر امت ميں رسول بھيجا كہ لوگو صرف اللہ كي عبادت كرو اور اس كے سوا تمام معبودوں سے بچو} النحل ( 36 )
ليكن ان مشركوں نے اس كا انكار كيا اور اللہ تعالى كے علاوہ كئي ايك كو الہ بنايا اور اللہ سبحانہ وتعالى كے ساتھ ان كي بھي عبادت كرنے لگےاور ان سے مدد و استغاثہ مانگنےلگے.
چہارم: اللہ تعالى كے اسماء اور اس كي صفات پر ايمان:
يعنى: اللہ تعالى نے جو كچھ اپنى كتاب عزيز ميں اپنے ليے ثابت كيا ہے اور سنت نبويہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اللہ تعالى كے ليے جو اسماء وصفات بيان كيے ہيں انہيں اللہ تعالى كي شايان بغير كسي تحريف اور اور تمثيل اور بغير كوئي كيفيت بيان كيے اور اس كي تاويل اور انہيں معطل كيے بغير ان پر ايمان ركھنا اور انہيں ثابت كرنا.
اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
{اور اللہ تعالى كے ليے ہى اچھے اچھے نام ہيں تم اسے انہيں ناموں سے پكارو اور جو لوگ اس كے ناموں ميں الحاد كرتے ہيں انہيں چھوڑ دو عنقريب انہيں ان كے اعمال كي سزا دى جائے گى} الاعراف ( 180 )
لھذا يہ آيت اللہ تعالى كے اسماء حسنى كےاثبات كي دليل ہے اور ايك دوسرے مقام پر اللہ تعالى كا فرمان ہے:
{اسي كي بہترين اور اعلى صفت ہے آسمانوں اور زمين ميں بھى اور وہى غلبے والا اور حكمت والا ہے} الروم ( 27 ) .
اور يہ آيت اللہ تعالى كي صفات كمال كے اثبات كي دليل ہے، كيونكہ المثل الاعلى يعنى كامل اور اكمل وصف ہے، تو دونوں آيتيں اللہ تعالى كے اسماء حسنى اور بلند صفات كو عمومى طور پر ثابت كرتى ہيں، اور كتاب و سنت ميں اس كي تفصيل بہت زيادہ ہے.
اور يہ باب بھى علم كے ابواب ميں سے ايك باب ہے يعنى اللہ تعالى كے اسماء اور اس كي صفات ايك ايسا مسئلہ ہے جس ميں امت كے اكثر افراد كے مابين اختلاف پايا گيا ہے اور اللہ تعالى كے اسماء اور صفات كے متعلق امت كئي ايك فرقوں ميں بٹ گئي ہے .
اور اس اختلاف ميں ہمارا موقف وہى ہے جس كا ہميں اللہ تعالى نےحكم ديا ہے :
فرمان باري تعالى ہے:
{لھذا اگر تم كسي چيز ميں اختلاف كرو تو اسے اللہ تعالى اور اس كے رسول كي طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ تعالى اوريوم آخرت پر ايمان ركھتے ہو} النساء ( 59 ).
لھذا ہم يہ تنازع اوراختلاف اللہ تعالى كي كتاب اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كي سنت پر پيش كرتے ہيں اور اس ميں صحابہ كرام رضي اللہ تعالى عنہم اور تابعين عظام كي ان آيات اور احاديث ميں فہم اور سمجھ سے راہنمائى حاصل كرتے ہيں، كيونكہ وہ امت سے اللہ تعالى اور اس كے رسول كي مراد كو سب سے زيادہ جاننے والےہيں، عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ تعالى عنہ نے سچ فرمايا: وہ نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام كي صفت بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:
( تم ميں جو كوئي بھي كوئي طريقہ اختيار كرنا چاہتا ہے تو وہ فوت شدگان كے طريقہ پر چلے كيونكہ زندہ شخص سے فتنہ كا ڈر رہتا ہے، نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ اس امت كے سب سے نيك دل اور علمى گہرائى ركھنے والے اور سب سے كم تكلف كرنے والے تھے وہ ايسى قوم تھے جنہيں اللہ تعالى نے اپنا دين پھيلانے كے ليے اور اپنے نبى كي صحبت كے ليے چن ركھا تھا لھذا ان كے حق كو پہچان كرو اور ان كے طريقہ پر چلو كيونكہ وہ صراط مستقيم پر تھے ) .
اور اس مسئلہ ميں جو كوئي بھي امت كے سلف كے طريقہ سے ہٹا اس نے غلطى كي اور گمراہ ہو گيا، اور اس نے مومنوں كے علاوہ دوسرے راستے كي پيروي كي اور مندرجہ ذيل فرمان باري تعالى ميں جو وعيد ہے اس كا مستحق ٹھرا :
فرمان بارى تعالى ہے:
{جو شخص باوجود راہ ہدايت كے واضح ہو جانے كے بھى رسول صلى اللہ عليہ وسلم كي مخالفت كرے اور تمام مومنوں كي راہ چھوڑ كر چلے ہم اسے ادھر ہى متوجہ كرديتے ہيں جدھر وہ خود متوجہ ہوا اور اسے دوزخ ميں ڈاليں گے اور پہنچنے والى يہ بہت برى جگہ ہے} النساء ( 115 )
اور اللہ تعالى نے ہدايت كے ليے يہ شرط لگائى ہے كہ ايمان اس طرح كا ہونا چاہئے جس طرح كا ايمان نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام لائے تھےاس كو بيان كرتے ہوئے اللہ تعالى نے فرمايا:
{اگر وہ اس طرح ايمان لائيں جس طرح تم ايمان لائے ہو تو پھر وہ ہدايت يافتہ ہيں} البقرۃ ( 137 ) .
لھذا جو بھي سلف كے طريقہ سے ہٹا اور دور ہوا تو اس كي ہدايت ميں مقدار سے نقص پيدا ہوا جتنا وہ سلف كے راستے سے دور ہوا .
تو اس بنا پر اس مسئلہ اور باب ميں يہ واجب اور ضروري ہے كہ اللہ تعالى نے جو اپنے ليے ثابت كيا ہے يا نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اللہ تعالى كے ليے جو اسماء و صفات ثابت كيے ہيں وہ ثابت كيے جائيں اور كتاب و سنت كي نصوص كو اس ميں ظاہر پر ہي رہنے ديں ، اور ان پر اس طرح ايمان لائيں جس طرح صحابہ كرام ايمان ركھتے تھے، امت ميں سب سے افضل اور زيادہ علم ركھنے والے ہيں.
ليكن يہ جاننا بھي ضروري اور واجب ہے كہ يہاں چار ممنوعات يا محذورات ہيں جو كوئي بھي ان ميں پڑ گيا اس كا اللہ تعالى كے اسماء وصفات پر اس طرح ايمان نہيں جس طرح ايمان لانا واجب ہے، اور جب تك يہ ممنوعات يا محذورات سے بچا نہ جائے اور ان كي نفى نہ ہو اس وقت تك اسماء وصفات پر ايمان صحيح نہيں ہوتا وہ چار محذورات يہ ہيں:
تحريف، تعطيل، تمثيل، اور تكييف:
اسي ليے ہم نے اللہ تعالى كےاسماء وصفات پر ايمان كے معنى ميں كہا تھا اسماء و صفات پر ايمان يہ ہے كہ:
( اللہ تعالى نے اپنى كتاب ميں جو كچھ اپنے ليے اسماء و صفات ثابت كيے ہيں يا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كي سنت نے ان پر اس طرح ايمان لانا جو اللہ تعالى كي شايان شان ہے بغير كسي تحريف اور كيفيت اورمثال بيان كيے اور نہ ہى انہيں معطل كيا جائے )
ذيل ميں ہم ان چاروں محذورات كا بيان كرتے ہيں:
1 - تحريف:
اس سے كتاب و سنت كي نصوص كے معانى كو بدلنا مراد ہے كہ انہيں اس حقيقى معنى سے جس پر يہ نصوص دلالت كرتى ہيں بدل كر كسي دوسرے معنى ميں لے جانا، كہ ان اسماء اور صفات كو كسي اور معنى ميں بيان كرنا جو اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم سے وارد نہيں.
اس كي مثال يہ ہے كہ : تحريف كرنے والوں نے يد ہاتھ جو كہ بہت سي نصوص سے ثابت ہے كو ہاتھ كے معنى سے بدل كر اسے نعمت اور قدرت كے معنى ميں ليا ہے.
2 - التعطيل:
تعطيل سے مراد اللہ تعالى سے اس كے سب اسماء حسنى اور بلند صفات كي نفى يا اس ميں سے كچھ كي نفى ہے.
لھذا جس نے بھي اللہ تعالى سے اس كے كسي اسم يا صفت كي نفى كي جو قرآن و سنت سے ثابت ہيں اس كا اللہ تعالى كے اسماء اور صفات پر ايمان صحيح نہيں.
3 - التمثيل:
يہ اللہ تعالى كي صفات كو مخلوق كي صفات سے مثال دينا، مثلا يہ كہنا كہ: اللہ تعالى كا ہاتھ مخلوق كے ہاتھ كي مثل ہے، يا اللہ تعالى مخلوق كي مثل سنتا ہے، يا اللہ تعالى عرش پر اس طرح مستوى ہے جس طرح انسان كرسى پر مستوى ہوتا ہے. اسي طرح دوسرى صفات ميں .
اور اس ميں كوئي شك نہيں كہ اللہ تعالى كي صفات كو اس كي مخلوق كي صفات كے ساتھ ملانا اور تشبيہ دينا ايك برائي اور باطل كام ہے.
فرمان بارى تعالى ہے:
{اس كي مثل كوئي نہيں اور وہ سننےوالا ديكھنے والا ہے}الشورى(11)
4 - التكيف:
يعنى كيفيت بيان كرنى: يہ اللہ تعالى كي صفات كي كيفيت اور حقيقت كي تحديد كرنا، انسان اپنے دل كے اندازے يا زبان كےساتھ قول سے اللہ تعالى كي صفت كي كيفيت كي تحديد كرے.
اور يہ قطعى طور پر باطل ہے، اور كسي بشر كے ليے اس كا جاننا ممكن ہى نہيں. فرمان بارى تعالى ہے:
{اور اس كے علم كا احاطہ كر ہى نہيں سكتے} طہ ( 110 ) .
لھذا جس نے بھى يہ چاروں امور مكمل كرليے اور ان سے دور رہا تو اس كا ايمان صحيح اور مكمل ہے.
اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں اس ايمان پر ثابت قدم ركھے اور اسى پر موت دے. ديكھيں: رسالۃ شرح اصول الايمان تاليف شيخ ابن عثيمين
واللہ اعلم .
Read More »