Wednesday, September 10, 2014

تغيير الإحرام بآخر

DARUL IFTA
 فتاوى
فتاوى > فتاوى ذي القعدة > تغيير الإحرام بآخر
السؤال الأول من الفتوى رقم ( 9773 )
س1: هل يجوز للمحرم من الرجال والنساء تغيير إحرامه بإحرام آخر، سواء كان في وقت الحج أو العمرة؟
ج1: يجوز للمحرم بحج أو عمرة تغيير إحرامه بملابس أخرى للإحرام، ولا تأثير لهذا التغيير على إحرامه بالحج أو العمرة.
(الجزء رقم : 11، الصفحة رقم: 186)
وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
Read More »

إحرام الحائض

DARUL IFTA
 فتاوى
فتاوى > فتاوى ذي القعدة > إحرام الحائض

إحرام الحائض

السؤال السادس من الفتوى رقم ( 687 )
س6: ما حكم حجة الحائض؟
ج6: الحيض لا يمنع من الحج، وعلى من تحرم وهي حائض أن تأتي بأعمال الحج، غير أنها لا تطوف بالبيت إلا إذا انقطع حيضها واغتسلت، وهكذا النفساء، فإذا جاءت بأركان الحج
(الجزء رقم : 11، الصفحة رقم: 173)
فحجها صحيح.
وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
Read More »

أنواع الإحرام

DARUL IFTA
 فتاوى
فتاوى > فتاوى ذي القعدة > أنواع الإحرام

أنواع الإحرام

الفتوى رقم ( 5229 )
س: لقد قرأت كتبًا كثيرة عن مناسك الحج، وتكاد تكون معلوماتي شبه كافية عن المناسك، ولكن رغم ذلك تجدني في بعض المواضع لا أتمكن من فهم الصحيح من غيره، لتعارض الأقوال والآراء والفقهاء، ومن ذلك (الإفراد) بنية الحج فهناك رأي يقول: (لا ذبح عليه)، ومنهم من يقول: (يذبح)، فأي القولين تأخذ وأيهما تترك؟ أنا لم أقرأ كتابًا واحدًا شافيًا عن الحج، أو كما حج النبي صلى الله عليه وسلم، والصحابة الكرام رضوان الله عليهم أجمعين، فأرجو منكم توضيح ذلك بصورة مبسطة وواضحة، وجزاكم الله خيراً، وذلك على ضوء
(الجزء رقم : 11، الصفحة رقم: 160)
الكتاب والسنة الصحيحة. والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
ج: أنواع الإحرام ثلاثة: الأول: الإحرام بالحج فقط، ومن حج مفردًا فلا يجب عليه هدي. الثاني: الإحرام بالحج والعمرة معًا، وهذا يسمى قارنًا، ويسمى أيضًا متمتعًا، ويجب على القارن هدي. الثالث:الإحرام بالعمرة في أشهر الحج، ويتحلل منها ثم يحج في نفس السنة، ويسمى من فعل هذا متمتعًا، ويجب عليه هدي، ومن لم يجد الهدي صام ثلاثة أيام في الحج وسبعة إذا رجع إلى وطنه، أو محل إقامته، وأفضل أنواع النسك الثلاثة: التمتع بالعمرة إلى الحج.
وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
Read More »

إذا أراد الحج أو العمرة بالطائرة من أين يحرم

DARUL IFTA
 فتاوى
فتاوى > فتاوى ذي القعدة > إذا أراد الحج أو العمرة بالطائرة من أين يحرم
السؤال الثالث من الفتوى رقم ( 1693 )
س3: إذا أراد الحج أو العمرة، ويشق عليه الإحرام بالطائرة، ثم هو مع ذلك لا يعرف مقدار الميقات، فهل له تأخير الإحرام إلى جدة أم لا؟
ج3: إذا أراد الحج والعمرة وهو في الطائرة فله أن يغتسل
(الجزء رقم : 11، الصفحة رقم: 154)
في بيته، ويلبس الإزار والرداء إن شاء، وإذا بقي على الميقات شيء قليل أحرم بما يريد من حج أو عمرة، وليس في ذلك مشقة، وإذا كان لا يعرف الميقات فإنه يسأل قائد الطائرة، أو أحد المساعدين له، أو أحد المضيفين، أو الركاب ممن يثق به من أهل الخبرة بذلك.
وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
Read More »

هل يجوز أداء العمرة في أي وقت في السنة؟

DARUL IFTA
 فتاوى
فتاوى > فتاوى ذي القعدة > هل يجوز أداء العمرة في أي وقت في السنة؟
السؤال الأول من الفتوى رقم ( 4517 )
س1: فرضت العمرة مرة واحدة في العمر فهل يجوز أداؤها في أي وقت من السنة، أو لا يجوز أداؤها إلا في أشهر الحج؟
ج1: يجوز أداء العمرة في جميع أيام السنة، حتى في أشهر الحج، وإذا أداها في أشهر الحج وحج بعدها من عامه فهو متمتع بالعمرة إلى الحج، وإذا أداها مع حجه كان قارنًا بين الحج
(الجزء رقم : 11، الصفحة رقم: 317)
والعمرة، وعلى كل من المتمتع والقارن هدي يجزئ أضحية، إذا لم يكن من حاضري المسجد الحرام ، وإذا أداها الحاج في ذي الحجة بعد أيام التشريق جاز، ولا هدي عليه.
وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
Read More »

الأجانهل يجوز للمرأة الحاجة أو المعتمرة الطواف حول الكعبة وهي كاشفة عن وجهها بحضرة الرجالب؟

DARUL IFTA
 فتاوى
فتاوى > فتاوى ذي القعدة > طواف المرأة وهي كاشفة وجهها أمام الرجال
السؤال الأول من الفتوى رقم ( 4151 )
س1:  الأجانهل يجوز للمرأة الحاجة أو المعتمرة الطواف حول الكعبة وهي كاشفة عن وجهها بحضرة الرجالب؟
ج1: وجه المرأة عورة لا يجوز كشفه لغير محرم، لا في الطواف ولا في غيره، ولا وهي محرمة أو غير محرمة، وإن طافت وهي كاشفة لوجهها أثمت بكشف وجهها، وصح طوافها، ولكن تستره بغير النقاب إن كانت محرمة.
(الجزء رقم : 11، الصفحة رقم: 194)
وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
Read More »

وہاں اہل میت کی طرف سے کھانا تيار کرنے کے مسئلہ میں بہت اختلاف ہے۔ جناب والا سے امید ہے کہ اس مسئلہ اور درج ذیل مسائل پر ہمیں جواب عنايت فرمائیں۔

DARUL IFTA
 دائمی کمیٹی کے فتوے
جلد کا نمبر سے براؤز کریں > پہلا مجموعہ > دوسری جلد: عقيدہ (2) > موجبات كفر > جب مسلمان کسی صریح نص سے ثابت حکم کی مخالفت کرنا
فتوى نمبر:2175
س: ہمارے ملک ويتنام ميں جو تھائی لینڈ کے جنوب میں واقع ہے،
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 32)
وہاں اہل میت کی طرف سے کھانا تيار کرنے کے مسئلہ میں بہت اختلاف ہے۔ جناب والا سے امید ہے کہ اس مسئلہ اور درج ذیل مسائل پر ہمیں جواب عنايت فرمائیں۔
احکام تکليفيہ يہ ہيں: واجب مندوب، جائز، مكروه، ممنوع۔
ان لوگوں کا کیا حکم ہے جو مذکورہ احکام کا انکار کريں اس طور پر کہ
1 - کسی واجب کو مندوب، يا جائز، يا مکروہ یا ممنوع کہيں۔
2 - کسی مندوب کو واجب، يا مباح، يا مکروہ یا ممنوع کہيں۔
3 - کسی مباح کو واجب، يا مندوب، يا مکروہ یا ممنوع کہيں۔
4 - کسی مکروہ کو واجب، يا مندوب، يا مباح یا ممنوع کہيں۔
5 - کسی ممنوع کو واجب، يا مندوب، يا مباح یا مکروہ کہيں۔
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 33)
اس کی بعض مثالیں یہ ہیں: علماء نے کہا کہ (میت کے اہل خانہ کی جانب سے کھانا تيار کرکے ضیافت کرنا مکروہ ہے، اس لئے کہ اس کی مشروعیت خوشی کے موقع پر ہے نہ مصيبت کے وقت ، اور یہ قبیح بدعت ہے) اور اس نے کہا کہ پہلے، دوسرے اور تیسرے دن نيز ایک ہفتہ کے بعد یہ کھانا پکوانا مکروہ ہے۔ اور اس نے کہا کہ میت کے گھر اکٹھا ہونے والوں کے لئے اہل ميت کا کھانا پکوانے کی کراہیت پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے، اسی طرح علماء کے دیگر اقوال بھی ہیں۔ ہمارے شہر فطانی کے بہت سے علماء پہلے کے علماء ربانیین کے بر خلاف بات کہتے ہيں، بعض نے کہا: یہ سنت ہے، بعض نے کہا: مباح ہے، ان میں سے کچھـ نے کہا: واجب ہے، ہم اور حاجی عبد الله حاج محمد صالح اور حاجی عبد الرحمان جافاكيا وہ بات کہتے ہيں جس طرح علماء سابقین نے کہی ہے، اس مسئلہ كى وجہ سے بعض دوسروں کو تکفیر کرتے ہيں، اور بعض دوسروں کے ذبیحہ کو نہیں کھاتے ہیں، اور نہ ہی ان میں سے بعض دوسروں سے نکاح کرتے ہیں، اس لئے ہم جناب والا سے فتوی دينے کی صورت میں جو ایجابی جواب ہے موافقت واعتماد کے خواہاں ہیں۔ جب آپ کا جواب آئے گا تو ہم انشاء اللہ طبع کرا کے تمام لوگوں ميں مفت تقسیم کریں گے۔
ج: پہلی بات: سنت صحیحہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ میت کے اہلِ خانہ کے علاوہ دیگر مسلمان بھائی کھانا تیار کریں اور اہل میت کے لئے بھیجیں، تاکہ ان کے ساتھ تعاون اور ان کی دلجوئی اور اظہار ہمدردی ہو، بسا اوقات وہ لوگ اپنی مصیبت اور آنے والوں کی وجہ سے مصروف ہوتے ہیں اور انہیں کھانا تیار کرنے کی فرصت نہیں ملتى ہے، پس امام ابو داود نےاپنی سنن ميں حضرت عبداللہ بن جعفر سے روايت كیا ہے کہ جب حضرت جعفر رضي الله عنه کى شہادت کی خبر پہنچی تو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: آل جعفر کے لئے کھانا تیار کرو كيونكہ ان پر مصيبت آئى ہے جس نے انہيں مشغول كرديا ہے، اسے احمد ، ابو داود،
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 34)
ترمذی اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے، اور اسے ترمذی نے حسن کہا ہے، رہی بات میت کے اہلِ خانہ کا لوگوں کے لئے کھانا تیار کرنا اور اسے عادت بنانا، يہ غیر معروف عمل ہے، جس کا ثبوت ہمیں نبی اور خلفاء راشدین سے نہیں ملتا ہے، بلكہ یہ بدعت ہے، اس کا ترک کرنا ضروری ہے، اس لئے کہ اس میں اہل میت کے لئے مزید مشغولیت ہے، اور اہل جاہلیت کے کاموں سے مشابہت ہے، اور رسول اللہ اور خلفاء راشدین کی سنت سے اعراض ہے، اور امام احمد نے جریر بن عبد اللہ البجلی سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام اہل میت کے یہاں اکٹھا ہونے اور تدفین کے بعد آنے والوں کے لئے کھانا تیار کرنے کو نوحہ میں شمار کرتے تھے، اسی طرح قبر کے پاس یا موت کے وقت یا میت کے گھر سے نکلنے كے وقت جانور ذبح کرنا جائز نہیں ہے، کيونکہ امام احمد اور ابو داود نے انس رضی الله عنه سے روايت كيا ہے کہ بے شک نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:  اسلام میں ( قبرستان پر ) ذبح کا کوئی تصور نہیں ہے۔
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 35)
دوسری بات: جب کوئی مسلمان کتاب و سنت کے صریح نص سے ثابت شدہ حکم کی مخالفت کرے جو تاویل قبول نہ کرے اور نہ ہی اس میں اجتہاد کی کوئی گنجائش ہو یا یہ کہ قطعی طور پر ثابت شدہ کسی اجماع کی مخالفت کرے، تو اس کو صحيح حکم بتایا جائے گا، اگر قبول کر لیتا ہے تو الحمد للہ، اور اگر اتمام حجت اور وضاحت کرنے کے بعد بھی انکار کرتا ہے اور اللہ کے حکم کو بدلنے پر مصر رہے، تو اس پر کفر کا حکم لگایا جاۓ گا اور اس کے ساتھـ دین اسلام سے مرتد ہونے والوں کا معاملہ کريں گے، اس كی مثال: مثلا پانچ وقت كى نماز یا کوئی ایک نماز، یا روزہ، يا زکوٰۃ یا حج كرنے کی فرضیت کا انکار کرے اور کتاب وسنت کے نصوص کی تاویل کرے اور اجماع امت کی پرواہ نہ کرے۔ جب کوئی مسلمان کسی ثابت حکم کی مخالفت ايسی دليل کی بنا پرکرے جو مختلف فیہ ہے یا اس میں مختلف معانی کی تاویل کی اور اس کے مخالف حکم کی گنجائش ہے، تو یہ اختلاف اجتہادی مسئلہ کا اختلاف ہوگا، اور ایسے آدمی کی تکفیر نہیں کی جاۓ گی؛ بلکہ اس میں وہ معذور ہوگا اور اسے اجتہاد کا ثواب ملے گا، جس کا اجتہاد صحیح ہوگا تو وہ قابلِ تعریف ہے اور اس لئے دو اجر ہے، ایک اجر اجتہاد کا اور دوسرا اجر درستگی تک پہونچنے کا، اس كی مثال: جس نے مقتدی کے لئے سورۂ فاتحہ کی قراءت کے وجوب کا انکار کیا، اور جس نے اس کے لئے اس کی قراءت کو واجب قرار دیا، اور جس نے میت کے گھر کھانا بنانے اور لوگوں کے جمع ہونے کی مخالفت کی، تو کسی نے کہا: کہ یہ مستحب ہے، یا کسی نے کہا: یہ مباح ہے، یا اور کسی نے مکروہ غیر حرام کہا، تو ایسے کی تکفیر کرنا، اس کے پیچھے نماز کا انکار کرنا، اور اس سے نکاح سے رک جانا جائز نہیں ہے، اور اس کے ذبیحہ کو کھانا حرام نہیں ہوگا، بلکہ شرعی دلیل کی روشنی میں اسے وعظ ونصیحت کرنا ہم پر واجب ہيں، کیونکہ وہ مسلمان بھائی ہے اور اس کے لئے مسلمانوں کے حقوق ہیں، اس مسئلہ ميں اختلاف ایک فروعی اجتہادی مسئلہ کا اختلاف ہے، اس طرح کے اختلافات عہد صحابہ کرام اور ائمہ سلف میں ہوتا رہا ہے اور ان میں سے بعض نے دوسروں کی تکفیر نہیں کی اور نہ ہی ایک دوسرے سے قطع تعلق کيا۔
وبالله التوفيق ۔ وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلَّم

Read More »

اہل كتاب کا کفر جو نبی كریم كى رسالت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں

DARUL IFTA
 دائمی کمیٹی کے فتوے
جلد کا نمبر سے براؤز کریں > پہلا مجموعہ > دوسری جلد: عقيدہ (2) > موجبات كفر > اہل كتاب کا کفر جو نبی كریم كى رسالت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 30)

اہل كتاب کا کفر جو نبی كریم كى رسالت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں
تيسرا سوال: فتوی نمبر: 9438
س 3: قرآن کریم نے یقینا اہل کتاب کی تکفیر کی ہے سوائے ان لوگوں سے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے(قرآن)، بہر حال جن یہودیوں نے کہا: کہ بے شک عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اور عیسائیوں نے کہا: مسیح اللہ کے بیٹے ہیں، ۔ اللہ کی پناہ ہو۔ قرآن نے ان لوگوں کی تکفیر صراحتا" کی ہے،   ﻭﮦﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻗﻄﻌﺎکاﻓﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ، ﺍللہ ﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ سے ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮨﮯ، آيت۔
اس قطعی دلیل کے باوجود ہم بعض علماء کو دیکھتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: بے شک اہل کتاب کافر نہیں ہیں، وہ صرف اہل کتاب تھے، برائے مہربانی اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔
ج 3: جنہوں نے انہیں کافر کہا وہ ان کے قرآن اور سنت کو جھٹلانے کے وجہ سے کہا، کیونکہ ان کے کفر کی صراحت موجود ہے، الله تعالى کا فرمان ہے:   ﺍﮮﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ ﺗﻢ ( ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻗﺎﺋﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻛﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ) ﺩﺍﻧﺴﺘﮧ ﺍللہﻛﯽ ﺁﯾﺎﺕ کا ﻛﯿﻮﮞ ﻛﻔﺮ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ سورۂ آل عمران، آیت، اور فرمایا:   ﺑﮯ ﺷﻚﻭﮦ ﻟﻮﮒ کاﻓﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺟﻦ کا ﻗﻮ ﻝ ﮨﮯ ﻛﮧ ﻣﺴﯿﺢ ﺍﺑﻦ ﻣﺮﯾﻢ ﮨﯽ ﺍللہ ﮨﮯ سورۂ مائدہ، آیت، ا ور اس نے کہا:  ﻭﮦﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻗﻄﻌﺎکاﻓﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ، ﺍللہ ﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ سے ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮨﮯ،
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 31)
سورۂ مائدة ، آیت، اور اس نے کہا:   ﯾﮩﻮﺩ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺰﯾﺰ ﺍللہ کاﺑﯿﭩﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺮﺍﻧﯽ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺴﯿﺢ ﺍللہ کا ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻗﻮﻝ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻣﻨﮧ ﻛﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﻣﻨﻜﺮﻭﮞ ﻛﯽ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﻘﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍللہ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﺎﺭﺕ ﻛﺮﮮ ﻭﮦ ﻛﯿﺴﮯ ﭘﻠﭩﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ سورۂ توبہ، آیت، الله تعالى فرماتا ہے:   ﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﮯ کاﻓﺮﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﻙ ﻟﻮﮒ ﺟﺐ ﺗﻚ ﻛﮧﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻇﺎﮨﺮ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﮧﺁﺟﺎﺋﮯ ﺑﺎﺯ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ۔(وه دليل يہ تهى كہ) سورۂ بينہ، آیت، اوراس نے کہا:   ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﻭ، ﺟﻮ ﺍللہ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﺗﮯ ﺟﻮ ﺍللہ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﻛﺮﺩﮦ ﺷﮯ ﻛﻮ ﺣﺮﺍﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ، ﻧﮧ ﺩﯾﻦ ﺣﻖ ﻛﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻛﺘﺎﺏ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻚ ﻛﮧ ﻭﮦ ﺫﻟﯿﻞ ﻭﺧﻮﺍﺭ ﮨﻮ ﻛﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗھ ﺳﮯ ﺟﺰﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﻛﺮﯾﮟ ۔ اور اس طرح کی بہت سی آیتیں ہیں۔
وبالله التوفيق ۔ وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلَّم

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
Read More »

جنہوں نے حرام كو حلال كیا یا حلال كو حرام كیا

DARUL IFTA
 دائمی کمیٹی کے فتوے
جلد کا نمبر سے براؤز کریں > پہلا مجموعہ > دوسری جلد: عقيدہ (2) > موجبات كفر > جنہوں نے حرام كو حلال كیا یا حلال كو حرام كیا
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 28)

جنہوں نے حرام كو حلال كیا یا حلال كو حرام كیا
فتوى نمبر: 2204
س: اس حدیث کے سلسلہ میں ہمارے مسلم بھائیوں کے درمیان ترکی میں بہت اختلافات رونما ہوا ہے، (جس نے حرام كو حلال كیا یا حلال كو حرام كیا تو اس نے کفر کیا) تو کیا جس نے حرام كو حلال كیا یا حلال كو حرام كیا، اسے کافر شمار کیا جائیگا یا گناہگار قرار پاۓ گا؟ اور حدیث میں اس قول کا کیا معنی ہے: (کفر)، یا اس کے اور لفظ کافر کے درمیان فرق نہیں ہے؟ حضور والا سے امید ہے کہ اس حدیث کے سلسلے میں اطمينان بخش جواب سے نوازیں۔
ج: پہلی بات : ہمیں اس حدیث کی اصل کا علم نہیں ہے، اور میں کسی معتبر امام کو نہیں جانتا جنہوں نے صحیح یا ضعيف سند کے ساتھ اس حدیث کی تخریج کی ہو، لہذا اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے جب کہ اس حديث کی مذکورہ حالت ہو۔
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 29)
دوسری بات: جب مسلمان قرآن وسنت کے کسی صریح حکم میں اختلاف کرے تو ان کی تاویل کو قبول نہیں کیا جائیگا اور اس میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے، یا قطعی طور پر ثابت شدہ اجماع کی مخالفت کرے تو ان کو درست حکم بتایا جائیگا اگر انہوں نے قبول کرلیا تو اللہ کا شکر ہے۔ اور اگر بيان اور حجت کے قائم ہونے کے بعد بھی اللہ کے حکم کو بدلنے پر مصر رہا تو اس پر کفر کا حکم لگایا جائیگا اور دین اسلام سے مرتد ہونے والے شخص جیسا معاملہ کیا جائیگا۔ اس كی مثال: جس نے پنجگانہ نماز یا کسی ایک نماز کا انکار کیا یا روزہ اور زکاۃ اور حج کی فرضیت کا انکار کیا یا قرآن اور سنت سے ثابت شدہ احکام میں تاویل کی اور امت کے اجماع کی پرواہ نہ کرے، اور جب کسی ثابت حکم کی مخالفت ايسی دليل کی بنا پر کرے جو مختلف فیہ ہے، یا اس نے تاویل کے مسئلہ میں کوئی اور معنی پیش کیا یا کوئی اور حکم لگایا تو اس کا اختلاف اجتہادی مسئلہ میں ہوگا اور اس کی تکفیر نہیں کی جائیگی۔ بلکہ اس کی غلطی پر اسے معذور سمجھا جائیگا اور اس کے اجتہاد پر اسے اجر ملے گا، اور اگر اس نے حق کو پالیا تو قابل ستائش ہوگا اور دوگنا اجر ملے گا، ایک اجر اس کے اجتہاد کا، اور ایک اجر حق کو پالینے کا، اس كی مثال: جس کسی نے مقتدی پر سورہ فاتحہ کے پڑھنے کے وجوب کا انکار کیا، یا کسی نے اس کا پڑھنا مقتدی کے لئے واجب کہا، یا کسی نے اہل میت کے لئے کھانا پكانا یا لوگوں کو اکھٹا کرنے کے حکم کی مخالفت کی اور کہا: کہ یہ مستحب ہے، یا اس نے کہا: بے شک یہ مباح ہے، یا یہ مکروہ ہے حرام نہیں ہے، تو ان جیسوں کی تکفیر نہیں کی جائیگی، اور ان کے پیچھے نماز ادا کرنے سے انکار نہیں کیا جائیگا، اور ان کے ساتھ شادی بیاہ پر پابندی نہیں لگائی جائیگی، اور نہ ان کے ذبح کئے ہوئے کو حرام قرار دیا جائیگا، بلکہ انہیں شرعی دلیل کی روشنی میں وعظ ونصیحت کی جائیگی، اس لئے کہ وہ مسلمان بھائی ہے اس کے لئے حقوق ہیں، اور اس مسئلہ میں اختلاف فروعی اور اجتہادی مسئلہ کا اختلاف ہے، ایسے واقعات صحابہ اور ائمہ سلف کے زمانے میں رونما ہوئے ہیں اور کسی نے کسی کی تکفیر نہیں کی اور نہ بعض نے بعض سے ترک تعلق کيا۔
‎ وبالله التوفيق ۔ وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلَّم

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
Read More »