Tuesday, September 30, 2014

عشرہ ذوالحجہ ميں روزے ركھنے كے استحباب كے بارہ ميں احاديث



عشرہ ذوالحجہ ميں روزے ركھنے كے استحباب كے بارہ ميں احاديث


آپ كى ويب سائٹ پر " عشرہ ذوالحجہ " كے عنوان سے ايك مضمون ہے، جس سے مجھے يہ سمجھ آئى ہے كہ نو ذوالحجہ كا روزہ ركھنا مستحب ہے، ليكن آپ نے يہ ذكر نہيں كيا كہ آيا عشرہ ذوالحجہ كے باقى ايام كے روزے ركھنا سنت ہيں يا نہيں. 
كچھ احاديث ہيں جن كے صحيح ہونے كے بارہ ميں مجھے علم نہيں جن ميں ان دس ايام كى فضيلت بيان ہوئى ہے، اور وہ ان ايام ميں اطاعت و فرمانبردارى كرنے كى ترغيب دلاتى ہيں اور ان ميں روزے ركھنا بھى شامل ہے, وہ احاديث درج ذيل ہيں: 
1 ـ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: 
" عشرہ ذوالحجہ كے علاوہ كسى اور ايام ميں اللہ تعالى كو عبادت كرنا زيادہ پسند نہيں ان ايام ميں بہت زيادہ محبوب ہيں، ان ميں ہر ايك دن كا روزہ ايك سال كے روزے كے برابر ہے، اور ہر رات كا قيام ليلۃ القدر كے قيام كے برابر ہے " 
اسے امام ترمذى اور ابن ماجہ اور امام بيھقى نے روايت كيا ہے. 
2 ـ حفصہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں: 
پانچ كام ايسے تھے جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كبھى نہيں چھوڑا كرتے تھے: يوم عاشورا كا روزہ، اور عشرہ ذوالحجہ كے روزے، اور ہر ماہ كے تين روزے، اور فجر سے قبل دو ركعت ادا كرنا... " 
اسے امام احمد اور امام نسائى نے روايت كيا ہے. 
ان احاديث سے سمجھ آتى ہے كہ صرف نو ذوالحجہ كا روزہ ہى سنت نہيں، بلكہ پورے عشرہ ذوالحجہ كے روزے ركھنا بھى سنت ہے. 
تو كيا يہ صحيح ہے، اور آپ كے اس مضمون ميں اسے كيوں نہيں بيان كيا گيا ؟ اور كيا مذكورہ بالا احادث صحيح ہيں ؟
الحمد للہ:
اول:
ہمارى ويب سائٹ عشرہ ذوالحجہ كے پہلے نو ايام كے روزے ركھنے كے استحباب كو بيان كيا گيا ہے، اس سلسلہ ميں آپ درج ذيل سوالات كے جوابات كا مطالعہ كريں:
سوال نمبر ( 41633 ) اور ( 49042 ) اور ( 84271 ).
دوم:
ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى حديث جس ميں وہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" عشرہ ذوالحجہ كے علاوہ كوئى اور ايام اللہ تعالى كو اتنے پسند نہيں جتنے ان دس ايام ميں عبادت كرنا پسند ہے، ان ايام ميں ہر ايك دن كا روزہ ايك برس كے برابر ہے، اور ہر رات كا قيام كرنا ليلۃ القدر كے قيام كے برابر ہے "
اسے امام ترمذى نے حديث نمبر ( 758 ) اور البزار نے حديث نمبر ( 7816 ) اور ابن ماجہ نے حديث نمبر ( 1728 ) ميں ابو بكر بن نافع البصرى كے طريق سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتا ہے كہ حدثنا مسعود بن واصل عن نھاس بن فھم عن قتادۃ عن سعيد بن المسيب عن ابى ہريرۃ رضى اللہ تعالى عنہ.
نھاس بن فھم اور مسعود بن واصل كى وجہ سے يہ سند ضعيف ہے، اسى ليے علماء حديث متفقہ طور پر اس حديث كو ضعيف كہتے ہيں.
امام ترمذى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
يہ حديث غريب ہے، ہم مسعود بن واصل عن النھاس كے طريقہ كے علاوہ كسى اور سے اس حديث كو نہيں جانتے.
ميں نے محمد يعنى امام بخارى رحمہ اللہ سے اس حديث سے دريافت كيا تو وہ اس طريق كے علاوہ كسى اور سے نہيں جانتے تھے.
قتادۃ نے سعيد بن مسيب سے مرسل بيان كيا ہے، اور يحي بن سعيد نے نھاس بن فھم كے حفظ كے بارہ كلام كى ہے " انتہى
اور امام بغوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اس كى سند ضعيف ہے " انتہى
ديكھيں: شرح السنۃ ( 2 / 624 ).
اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اس ميں ضعف ہے " انتہى
ديكھيں: شرح العمدۃ ( 2 / 555 ).
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اس كى سند ضعيف ہے " انتہى
ديكھيں: فتح البارى ( 2 / 534 ).
اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الضعيفۃ و الموضوعۃ حديث نمبر ( 5142 ) ميں اسے ضعيف قرار ديا ہے.
اور حافظ ابن رجب رحمہ اللہ يہ اور دوسرى احاديث بيان كرنے كے بعد كہتے ہيں:
" دوسرى مرفوع احاديث بھى ہيں ليكن يہ سب موضوع ہيں، اس ليے ہم نے ان اور اس جيسى دوسرى احاديث سے اعراض كيا ہے جو عشرہ ذوالحجہ كى فضيلت ميں موضوع ہيں اور يہ بہت زيادہ ہيں " انتہى
ديكھيں: لطائف المعارف ( 262 ).
سوم:
سوال ميں وارد دوسرى حديث:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پانچ چيزيں كبھى نہيں چھوڑا كرتے تھے..... "
اس حديث كا مدار ھنيدۃ بن خالد خزاعى پر ہے اس سے كئى ايك سنديں آئى ہيں اور الفاظ بھى مختلف ہيں:
پہلى:
ھنيدۃ بن خالد عن ام المومنين حفصہ رضى اللہ تعالى عنہا.
اس سے الحر بن الصياح نے اور الحر سے اس طريق ميں تين راويوں نے روايت كى ہے:
1 ـ عمرو بن قيس الملائي:
اس كى روايت امام نسائى نے سنن نسائى حديث نمبر ( 2416 ) اور امام احمد نے مسند احمد ( 44 / 59 ) اور طبرانى نے المعجم الكبير ( 23 / 205 ) اور ابن حبان نے صحيح ابن حبان ( 14 / 332 ) ميں اور ابو يعلى نے مسند ابى يعلى ( 12 / 469 ) ميں روايت كى ہے جس كے الفاظ يہ ہيں:
" چار چيزيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نہيں چھوڑا كرتے تھے: يوم عاشوراء كا روزہ اور عشرہ ( ذوالحجہ ) كے روزے اور ہر ماہ تين ايام كے روزے، اور صبح سے قبل دو ركعتيں "
عمرو بن قيس سے روايت كرنے والا راوى ابو اسحق اشجعى ہے جو كہ مجھول ہے، اس ليے محققين سند نے اسے ضعيف قرار ديا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے ارواء الغليل ( 4 / 111 ) ميں بھى ضعيف كہا ہے.
2 ـ زہير بن معاويہ ابو خيثمہ:
امام نسائى نے الكبرى ( 2 / 135 ) ميں روايت كيا ہے زہير كے الفاظ يہ ہيں:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہر ماہ تين دن كے روزے ركھا كرتے تھے، مہينہ كے پہلے سوموار كے دن پھر جمعرات اور پھر اس كے بعد والى جمعرات كو "
3 ـ شريك:
اسے امام نسائى نے الكبرى ( 2 / 135 ) اور امام احمد نے مسند احمد ( 9 / 460 ) طبع مؤسسۃ الرسالۃ ميں روايت كيا ہے اور اسے شريك نے مسند ابن عمر ميں سے زہير كے الفاظ كے ساتھ ہى بيان كيا ہے.
ابن ابى حاتم رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" ميں نے اپنے والد اور ابو زرعۃ سے اس حديث كے بارہ ميں دريافت كيا جسے شريك نے الحر بن الصياح عن ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صى اللہ عليہ وسلم ہر ماہ سوموار اور جمعرات اور اس كے بعد سوموار كا روزہ ركھا كرتے تھے "
ان دونوں كا كہنا تھا: يہ غلط ہے، بلكہ وہ تو الحر بن صياح عن ھنيدۃ بن خالد عن امراتہ عن ام سلمہ عن النبى صلى اللہ عليہ وسلم كے طريق سے ہے " انتہى
ديكھيں: العلل ( 1 / 231 ).
محققين كا كہنا ہے كہ:
" اس كى سند ضعيف ہے شريك وہ ابن عبد اللہ النخعى ہے ـ جو كہ سيئ الحفظ ہے، اور اس پر حديث كے الفاظ مختلف ہيں پھر انہوں نے اختلاف كا ذكر كيا ہے " انتہى
ديكھيں: المسند ( 9 / 460 ).
دوسرى وجہ:
عن ہنيدۃ بن خالد عن امراتہ عن بعض ازواج النبى صلى اللہ عليہ وسلم.
اسے اس طريق سے ابو عوانہ عن الحر بن الصياح عن ہنيدۃ سے روايت بيان كرتا ہے جسے ابو داود نے حديث نمبر ( 2437 ) اور امام نسائى نے حديث نمبر ( 2372 ) اور ( 2418 ) اور امام احمد نے ( 37 / 24 ) اور ( 44 / 69 ) اور بيھقى نے سنن الكبرى ( 4 / 284 ) ميں اور امام طحاوى نے شرح معانى الآثار ( 2 / 76 ) ميں روايات كيا ہے.
ابو داود ميں اس كے الفاظ يہ ہيں:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نو ذوالحجہ اور يوم عاشوراء اور ہر ماہ كے تين روزے ركھا كرتے تھے مہينے كے پہلے سوموار اور جمعرات كا "
تيسرى وجہ:
عن ہنيدۃ عن امہ عن ام سلمۃ رضى اللہ تعالى عنہا:
يہ محمد بن فضيل كے طريق سے ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ ہميں حديث بيان كى حسن بن عبيد اللہ نے ہنيدۃ الخزاعى وہ اپنى ماں سے اور وہ ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا سے بيان كرتى ہيں كہ:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم تين ايام كے روزے كا حكم ديتے، پہلى جمعرات اور سوموار اور سوموار كا.
اور ايك روايت ميں ہے:
" مجھے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مہينے ميں تين روزے ركھنے كا حكم ديا كرتے تھے سوموار اور جمعرات اور دوسرے جمعہ كے سوموار كا "
اور ايك روايت ميں ہے:
" مجھے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہر ماہ كے تين روزے ركھنے كا حكم ديا كرتے تھے: پہلا سوموار اور جمعہ اور جمعرات كا "
اسے امام احمد نے مسند احمد ( 44 / 82 ) ميں اور ابو يعلى نے مسند ابو يعلى ( 12 / 315 ) ميں اور ابو داود نے سنن ابو داود حديث نمبر ( 2452 ) ميں اور امام نسائى نے سنن نسائى ( 4 / 221 ) ميں روايت كيا ہے.
اس ميں نو ذوالحجہ كے روزے كا ذكر نہيں، اور نہ ہى يوم عاشوراء كے روزے كا ذكر ہے، بلكہ صرف ہر ماہ تين روزے پر اقتصار كيا گيا ہے.
چوتھى وجہ:
عن ہنيدۃ عن امراتہ عن ام سلمۃ رضى اللہ تعالى عنہا:
يہ عبد الرحيم بن سليمان عن الحسن بن عبد اللہ عن الحر بن صياح عن ہنيدۃ بن خالد عن امراتہ عن ام سلمۃ رضى اللہ تعالى عنہا كے طريق سے سابقہ الفاظ سے مروى ہے.
اسے طبرانى نے المعجم الكبير ( 23 / 216 ) اور ( 23 / 420 ) اور ابو يعلى نے مسند ميں روايت كيا ہے.
پانچويں وجہ:
ہنيدہ بن خالد كہتے ہيں ميں ام المومنين كے پاس گيا اس ميں انہوں نے ام المومنين كا نام ذكر نہيں كيا.
يہ زہير بن معاويہ عن الحر بن الصياح كے طريق ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے ہنيدہ الخزاعى سے سنا وہ كہہ رہے تھے كہ ميں ام المومنين كے پاس گيا اور ان كو يہ فرماتے ہوئے سنا كہ:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہر ماہ كے تين روزے ركھا كرتے تھے مہينے كے پہلے سوموار اور پھر جمعرات اور پھر اس كے بعد والى جمعرات كا "
اسے امام نسائى نے سنن نسائى حديث نمبر ( 2415 ) ميں روايت كيا ہے.
حاصل يہ ہوا كہ نقاد الحديث اس حديث كے متن اور سند كے مختلف ہونے كى بنا پر اس پر حكم لگانے ميں مختلف ہيں:
چنانچہ امام زيلعى نے نصب الرايۃ ( 2 / 157 ) اور مسند احمد كے محققين نے اس حديث كو ضعيف كہا ہے، اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ نے بھى اسے ضعيف كہا ہے جيا كہ مجموع فتاوى ابن باز ( 15 / 417 ) ميں درج ہے، اس ليے كہ حديث كے متن اور سند ميں اضطراب ہے، لگتا ہے كہ حديث پر حكم كے ليے يہى متجہ ہے.
ليكن علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ( 7 / 196 - 199 ) ميں زہير بن معاويہ اور ابو عوانہ عن الحر بن صياح كى دونوں روايتوں كو صحيح قرار ديا ہے.
اور دار قطنى كى العلل ( 15 / 121 - 122 ) ميں درج ہے كہ:
" ہنيدہ بن خالد الخزاعى عن حفصہ كى حديث كے بارہ ميں دريافت كيا گيا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم چار اشياء كو ترك نہيں كيا كرتے تھے: يوم عاشوراء كا روزہ اور عشرہ ذوالحجہ كا روزہ اور ہر ماہ تين روزے، اور صبح سے قبل دو ركعت "
تو وہ كہنے لگے: اسے حر بن صياح ہنيدہ بن خالد خزاعى كے طريق سے حفصہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كرتا ہے.
اور حسن بن عبيد اللہ اس كى مخالفت كرتے ہوئے اس سے اختلاف كيا ہے چنانچہ اسے عبد الرحيم بن سليمان حسن بن عبيد اللہ عن امہ عن ام سلمہ كے طريق سے بيان كرتے ہيں.
اور اسے ابو عوانہ نے حر بن صياح عن ہنيدۃ عن امراتہ عن بعض ازواج النبى صلى اللہ عليہ وسلم سے بيان كيا ہے جس ميں انہوں نے ام المومنين كا نام نہيں ليا " انتہى
واللہ اعلم .
Read More »

کیا جمعہ کے دن یوم عرفہ آنے کی کوئی فضیلت یا امتیازی خصوصیت ہے؟



کیا جمعہ کے دن یوم عرفہ آنے کی کوئی فضیلت یا امتیازی خصوصیت ہے؟


سوال: کیا یہ درست ہے کہ اگر یوم عرفہ جمعہ کے دن آئے تونماز جمعہ سے موافقت ہونے کی بنا پر سات حج کے برابر ہوگا؟ اللہ تعالی آپکو ہزاروں خیرات سے نوازے۔
الحمد للہ:
اول:
ہمیں کسی حدیث کا علم نہیں ہے کہ جس میں یہ ہو کہ اگر یومِ عرفہ جمعہ کے دن آئے تو اس سال  حج سات حج کے برابر ہوتا ہے، لیکن ایک جگہ "ستّر حج  " کا ذکر ہے، اور ایک جگہ: "بہتّر حج " کا ذکر ہے، لیکن یہ دونوں روایات کسی صورت میں بھی درست نہیں ہیں!
چنانچہ پہلی روایت کے الفاظ  جس حدیث میں آئے ہیں، وہ حدیث باطل اور صحیح نہیں ہے، جبکہ دوسری روایت  کی ہمیں کوئی سند یا متن  نہیں ملا، چنانچہ یہ بے بنیاد  روایت ہے۔
اس بارے میں وارد شدہ روایت کے متن  [کا ترجمہ ]یوں ہے:
" ایام میں افضل ترین  دن جمعہ کے روز آنے والا عرفہ کا دن ہے، اور وہ جمعہ کے علاوہ کسی اور دن میں آنے والے ستّر حج   سے بہتر ہے"
اس روایت کے باطل اور صحیح نہ ہونے کے بارے میں ائمہ کرام نے حکم  لگایا ہے:
1-            ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
لوگوں میں زبان زد عام  بات کہ  اس دن کا حج  بہتّر حج کے برابر ہے، تو یہ باطل بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ، کسی صحابی یا تابعی سے ایسی کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم
" زاد المعاد " ( 1 / 65 )
2-             شیخ البانی رحمہ اللہ   " سلسلہ ضعیفہ " ( 207 ) میں حدیث پر حکم لگانے کے بعد کہ یہ حدیث باطل ہے، اسکی کوئی بنیاد نہیں ہے، کہتے ہیں:
"علامہ زیلعی  کا " حاشیہ ابن عابدين " ( 2 / 348 ) میں کہنا  کہ: "اس حدیث کو رزین بن معاویہ  نے  " تجرید الصحاح " میں روایت کیا ہے" تو اس کے بارے میں یہ ذہن نشین کر لیں کہ رزین  کی اس کتاب میں  حدیث کی چھ بڑی کتب کو جمع کیا ہے، جن میں صحیح بخاری، مسلم، موطا امام مالک، سنن ابو داود،  سنن نسائی، اور سنن ترمذی شا مل ہیں، اس کیلئے بالکل وہی انداز اپنایا ہے جو ابن اثیر کی کتاب  " جامع الأصول من أحاديث الرسول " میں ہے، لیکن "التجرید " میں بہت سی ایسی احادیث ہیں جو مذکورہ اصل کتابوں میں موجود ہی نہیں ہے، جیسے کہ یہ بات سب  کے علم میں ہے کہ ان سے نقل کرنے والے علمائے کرام میں  منذری  " الترغيب و الترهيب "  میں نقل کرتے ہیں، اور یہ حدیث بھی اسی قسم میں  شامل ہے کہ بلاشبہ یہ حدیث  اصل کتابوں یا معروف حدیث کی کتابوں میں نہیں ہے، بلکہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے "زاد المعاد"(1/17)  میں اسکے باطل ہونے کی واضح لفظوں میں وضاحت کی ہے، انہوں نے جمعہ کے دن وقوف عرفہ کی امتیازی دس وجوہات بیان کرنے کے بعد کہا: " لوگوں میں زبان زد عام  بات کہ  اس دن کا حج  بہتّر حج کے برابر ہے، تو یہ باطل بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ، کسی صحابی یا تابعی سے ایسی کوئی چیز ثابت نہیں ہے "
اسی بات کو مناوی  نے " فیض القدير " ( 2 / 28 ) اور انکے بعد ابن عابدين  نے " حاشیہ " میں  ثابت کیا ہے" انتہی
اسی طرح " سلسلہ ضعیفہ" ( 1193 ) میں البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"سخاوی رحمہ اللہ " فتاوى حديثیۃ " ( ق 105/2 ) میں کہتے  ہیں:"رزین نے اسے اپنی کتاب "جامع" میں  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے مرفوعاً ذکر کیا ہے، لیکن اسے روایت کرنے والے صحابی، اور اپنی کتاب میں نقل کرنے والے  محدث کا نام نہیں بتلایا، واللہ اعلم"انتہی
اور " سلسلہ ضعیفہ" ( 3144 ) میں آپ رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (8/204) میں اس حدیث کیلئے  رزین کی کتاب "الجامعۃ" میں سے حدیث کا مرفوعاً حوالہ دیتے ہوئے  کہا: "مجھے اس کے بارے میں علم نہیں ہے؛ کیونکہ رزین نے اسے روایت کرنے والے صحابی، اور نقل کرنے والے محدث کا نام تک ذکر نہیں کیا"
پھر کہا کہ: حافظ ابن ناصر الدین دمشقی  نے اپنے جزء: " فضل يوم عرفۃ" میں کہا ہے کہ:
"حدیث: (جمعہ کے دن یوم عرفہ کا وقوف بہتّر حج کے برابر ہے) باطل ، اور صحیح نہیں ہے، اسی طرح یہ زر بن حبیش سے مروی: (اس دن وقوف عرفہ  جمعہ کے علاوہ دیگر ایام میں کئے ہوئے ستّر حج سے بہتر ہے) حدیث بھی پایا ثبوت  تک نہیں پہنچتی"انتہی
3-            شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: 
"کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے جمعہ کے دن حج  کے بارے میں کوئی فضیلت ملتی ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے جمعہ کے دن یوم عرفہ آنے کی صورت میں کوئی فضیلت نہیں ملتی، لیکن علمائے کرام کا یہ خیال ہے کہ یوم عرفہ اور جمعہ کا دن اکٹھا ہونے میں اضافی خیر ہے [اسکی درج ذیل وجوہات ہیں]
پہلی وجہ: تا کہ حج اسی طرح ہو جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے حج کیا تھا؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو بھی وقوف عرفہ جمعہ کے دن ہی  ملا تھا۔
دوسری وجہ: جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے، جس میں  کوئی بھی بندہ اللہ تعالی سے کھڑے ہو کر کچھ بھی مانگے تو اللہ تعالی اسے وہی چیز عطا فرماتا ہے، تو اس طرح قبولیت  کا  امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔
تیسری وجہ: یوم عرفہ ایک تہوار ہے، اور جمعہ کا دن بھی تہوار ہے، چنانچہ دو تہواروں کے اکٹھے ہونے میں خیر  ہوگی۔
جبکہ یہ مشہور ہوجانا کہ جمعہ کے دن کا حج  ستّر حج کے برابر ہے، تو یہ صحیح نہیں ہے"انتہی
" اللقاء الشهری" ( 34 / سوال نمبر: 18 )
4-             دائمی کمیٹی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا: 
"کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر عرفہ کا دن جمعہ کے دن آجائے ، جیسے اس سال آرہا ہے، تو  یہ حج سات حج کے برابر ہوگا، تو کیا سنت میں اس بارے میں کوئی دلیل ملتی ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"سنت میں  اس کے متعلق کوئی صحیح دلیل نہیں ہے، اور کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ ایسا حج ستر یا بہتّر حج کے برابر ہے یہ بھی صحیح نہیں ہے"
" فتاوى اللجنة الدائمة " ( 11 / 210 ، 211 )
مزید کیلئے دیکھیں: " فتح الباری " ( 8 / 271 )  اور " تحفۃ الأحوذی" ( 4 / 27 )
دوم:
مذکورہ گفتگو کے بعد، لوگوں میں اس بات کے مشہور ہونے  کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ بات فقہائے احناف، اور شوافع  کی کتب میں ملتی ہیں۔
چنانچہ احناف کہتے ہیں کہ:
"جمعہ کے دن وقوف عرفہ  کا امتیاز  ستر حج والا ہے، اور ایسے عرفہ کے دن میں ہر فرد کو بلا واسطہ معاف کر دیا جاتا ہے"[بلا واسطہ مغفرت کی   وضاحت آگے آئے گی۔ مترجم]
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ:
"یوم عرفہ اگر جمعہ کے دن آجائے تو یہ سب سے افضل دن ہے، اور یہ جمعہ کے علاوہ دیگر ایام میں آنے والے ستّر حج سے بہتر ہے۔"
" رد المحتار على الدر المختار " ( 2 / 621 )
جبکہ شافعی فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ:
"اور کہا گیا ہے کہ : اگر جمعہ کے دن یوم عرفہ ہوجائے تو اللہ تعالی عرفہ میں موجود سب کو معاف کردیتا ہے، یعنی بلا واسطہ معاف فرما دیتا ہے، جبکہ  عرفہ  جمعہ کے علاوہ کسی اور دن میں ہوتو  واسطے کیساتھ معاف کرتا ہے، یعنی : برے لوگوں کو نیک لوگوں کی سفارش  سے معاف فرماتا ہے"
" مغنی المحتاج " ( 1 / 497 )
سوم:
اس حدیث کے باطل ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ کے دن وقوفِ عرفہ  کا کوئی امتیاز ہے ہی نہیں، بلکہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس دن وقوف  کے بارے میں دس امتیازات بیان کئے ہیں، ہم انکی اہمیت اور فائدے کے پیش نظر  انہیں ذکر کرتے ہیں۔
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"صحیح بات یہ ہے کہ ہفتے کے دنوں  میں جمعہ کا دن سب سے افضل ہے، اور یومِ عرفہ و یوم نحر سال کے افضل ترین دن  ہیں، اسی طرح لیلۃ القدر ،اور جمعہ سے پہلے والی  رات بھی افضل ترین راتیں ہیں، اسی لئے جمعہ کے دن یوم عرفہ کی دیگر تمام ایام کے مقابلے میں خصوصیات ہیں ، اور اسکی متعدد وجوہات ہیں:
پہلی وجہ: اس طرح سے دو افضل ترین دن اکٹھے ہوتے ہیں۔
دوسری وجہ: جمعہ کے دن  دعا کی یقینی قبولیت کی گھڑی ہے، اور اکثر  کا یہی قول  ہے کہ وہ عصر کے بعد ہے، اور اسی وقت میں عرفات کا میدان   کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے والوں سے بھرا ہوتا ہے۔
تیسری وجہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی اسی دن وقوف عرفہ فرمایا تھا، اس طرح آپکی موافقت بھی ہوتی ہے۔
چوتھی وجہ: جمعہ کے دن ساری دنیا کے لوگ خطبہ اور نماز  جمعہ کیلئے جمع ہوتے ہیں، اور یہ وقت  عین وہی لمحہ ہے جس وقت حجاج کرام  عرفات میں  موجود  ہوتے ہیں، اس طرح  پوری دنیا کی مساجد   کے لوگوں اور عرفات میں حجاج  کے درمیان دعا و گریہ زاری کیلئے ایک ایسی اجتماعیت پیدا ہوجاتی ہے ، جو کسی اور دن میں حاصل ہونا  ممکن ہی نہیں ہے۔
پانچویں وجہ: جمعہ کا دن  عید کا دن ہے، اور عرفہ کا دن  عرفات میں موجود لوگوں کیلئے عید کا دن ہے، اسی لئے  عرفات میں موجود لوگوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا۔
ہمارے شیخ [یعنی ابن تیمیہ] کہتے ہیں : یوم عرفہ ، عرفات میں موجود لوگوں کیلئے عید ہے؛ کیونکہ وہ اسی دن اکٹھے ہوتے ہیں، جبکہ  دیگر علاقوں  کے لوگ آئندہ  روز یوم نحر کو جمع ہوتے ہیں، تو ان کیلئے عید کا دن یوم نحر بنا، بات کا مقصد یہ ہے کہ : جس دن یوم عرفہ، اور جمعہ کا دن اکٹھے ہو جائیں تو اس طرح دو عیدیں اکٹھی ہوجاتی ہیں۔
چھٹی وجہ:  جمعہ کے دن یوم عرفہ آنے کی وجہ سے اس دن کی موافقت ہوتی ہے جس دن اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلئے نعمت مکمل کرتے ہوئے دین کامل کیا تھا، جیسے کہ صحیح بخاری میں  طارق بن شہاب سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ: "ایک یہودی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا: امیر المؤمنین! ایک آیت آپ لوگ قرآن میں پڑھتے ہو، اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی ، اور ہمیں اس دن کے نازل ہونے کا علم ہوتا تو ہم اسے اپنے لئے عید کا دن  بناتے! آپ نے پوچھا: کونسی آیت؟ یہودی نے کہا: 
{الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا}
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا، اور تم پر اپنی نعمت مکمل کردی، اور تمہارے لئے اسلام کو بطورِ دین پسند کرلیا۔ [المائدة : 3] تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں جانتا ہوں  کہ یہ آیت کس دن ، کس جگہ ، اور کس بارے میں نازل ہوئی، یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر عرفات میں جمعہ کے دن  نازل ہوئی، اور ہم آپ کے ساتھ عرفات میں وقوف کئے ہوئے تھے"
ساتویں وجہ: یہ دن  ایک بڑے اجتماع  سے بھی موافقت  رکھتا ہے، اور بڑے اجتماع سے مراد قیامت  کا دن ہے؛ کیونکہ قیامت جمعہ کے دن ہی  قائم ہوگی، جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (سورج طلوع ہونے کا بہترین دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اور اسی میں جنت  کا داخلہ ملا، اور اسی دن جنت سے نکالا گیا، اور اسی دن  قیامت قائم ہوگی، اور جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں کوئی بھی مسلمان اللہ تعالی سے بھلائی مانگے تو اللہ تعالی اسے وہی عطا فرماتا ہے)۔۔۔
آٹھویں وجہ: جمعہ کے دن اور اس سے پہلے والی رات  میں مسلمان دیگر ایام کی بہ نسبت زیادہ اطاعت گزاری کرتے ہیں، حتی کہ بد کردار طبقہ بھی جمعہ کے دن اور اس سے پہلے آنیوالی رات کا احترام کرتے ہیں، انکا یہ ماننا ہے کہ : جو شخص بھی اس دن اللہ کی نافرمانی کرے تو اللہ تعالی اسے مہلت نہیں دیتا بلکہ  اسے جلد از جلد سزا سے دوچار فرما دیتا ہے، یہ ایسا معاملہ ہے  کہ انہیں اس بات پر بہت زیادہ یقین ہے، اور انہیں مشاہداتی طور پر بھی اسکا یقین ہو چکا ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ دن عظمت والا ہے، اللہ کے ہاں اسکا بہت بلند مقام ہے، اور اللہ تعالی نے اسے دیگر تمام ایام سے  الگ  چنا ہے، لہذا اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس دن وقوف عرفہ  کا امتیاز ہے جو دیگر ایام میں نہیں ہے۔
نویں وجہ: یہ وقوف جنت میں "یوم مزید" کے موافق ہے، ۔۔۔ اور وہ جمعہ کا دن ہے، چنانچہ جس دن  یوم عرفہ  جمعہ کے دن ہوا تو اسکی شان کو چار چاند لگ جاتے ہیں، اور خصوصیات بڑھ جاتیں ہیں جو کسی اور میں نہیں ہیں۔
دسویں وجہ: اللہ تعالی یوم عرفہ کی شام کو عرفات میں وقوف کرنے والوں  کے قریب ہوتا ہے، اور پھر فرشتوں کے سامنے  فخر فرماتا ہے۔۔۔    ۔
چنانچہ ان وجوہات کی بنا پر جمعہ کے دن وقوفِ عرفہ  کو دیگر ایام میں وقوف پر فضیلت دی گئی ہے۔
جبکہ لوگوں میں زبان زد عام  بات کہ  اس دن کا حج  بہتّر حج کے برابر ہے، تو یہ باطل بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ، کسی صحابی یا تابعی سے ایسی کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم" انتہی
" زاد المعاد " ( 1 / 60 – 65 ) سے کچھ اختصار کیساتھ اقتباس مکمل ہوا
واللہ اعلم.
Read More »

حاجى اور عام شخص كے ليے ذوالجہ كے آٹھ روزے ركھنے كا استحباب



حاجى اور عام شخص كے ليے ذوالجہ كے آٹھ روزے ركھنے كا استحباب


حاجى كے ليے ذوالحجہ كے پہلے آٹھ يوم كے روزے ركھنے كا حكم كيا ہے، يہ علم ميں ركھيں كہ يوم عرفہ كے روزے كے متعلق مجھے علم ہے كہ حاجى اس دن روزہ نہيں ركھ سكتا ؟
الحمد للہ:
ذوالحجہ كے پہلے آٹھ ايام كے روزے حاجى اور غير حاجى سب كے ليے مستحب ہيں؛ كيونكہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" ان دس ايام ميں كيے گئے اعمال صالحہ اللہ تعالى كو سب سے زيادہ محبوب ہيں، تو صحابہ كرام نے عرض كيا:
اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اور جھاد فى سبيل اللہ بھى نہيں ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اور نہ ہى جھاد فى سبيل اللہ، مگر يہ كہ جو آدمى اپنى جان اور مال لے كر اللہ كى راہ ميں نكلا اور اس ميں سے كچھ بھى واپس نہ لے كر آئے "
صحيح بخارى حديث ( 969 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 757 ) يہ الفاظ ترمذى كے ہيں.
اور الموسوعۃ الفقھيۃ ميں ہے:
" فقھاء كرام كا اتفاق ہے كہ يكم ذوالحجہ سے يوم عرفہ سے قبل آٹھ ذوالحجہ تك روزے ركھنا مستحب ہيں .....
اور مالكيہ اور شافعيہ كا بيان ہے كہ: ان ايام كے روزے ركھنے حاجى كے ليے بھى مسنون ہيں " انتہى.
ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 28 / 91 ).
اور نھايۃ المحتاج ميں ہے:
" يوم عرفہ سے قبل آٹھ روزے ركھنا مستحب ہيں، جيسا كہ " الروضہ " ميں تصريح بيان ہوئى ہے، اس ميں حاجى اور عام شخص برابر ہيں، ليكن حاجى كے ليے يوم عرفہ كا روزہ ركھنا مسنون نہيں، بلكہ اس كے ليے روزہ نہ ركھنا مستحب ہے، چاہے وہ طاقتور بھى ہو، كيونكہ اسى ميں ہى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و فرمانبردارى ہے، تا كہ وہ دعاء اور عبادت ميں تقويت حاصل كر سكے " انتہى بتصرف.
ديكھيں: نھايۃ المحتاج ( 3 / 207 ).
واللہ اعلم .
Read More »

عشرہ ذوالحجہ كي فضيلت كے متعلق سوال



عشرہ ذوالحجہ كي فضيلت كے متعلق سوال


كيا ماہ ذوالحجہ كے پہلے دس دنوں كو دوسرے سب ايام پر فضيلت حاصل ہے ؟ 
اور ان دس دنوں ميں كونسے ايسے اعمال صالحہ ہيں جو كثرت سے كرنا مستحب ہيں ؟
الحمد للہ:
اطافت وفرمانبردارى كے موسموں ميں سے ماہ ذوالحجہ كے پہلے دس يوم بھي ہيں جنہيں اللہ تعالى نے باقى سب ايام پر فضيلت دى ہے:
ابن عباس رضي اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" ان دس دنوں میں کیے گئے اعمال صالحہ اللہ تعالی کوسب سے زيادہ محبوب ہیں ، صحابہ نے عرض کی اللہ تعالی کے راستے میں جھاد بھی نہيں !! تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اورجھاد فی سبیل اللہ بھی نہيں ، لیکن وہ شخص جواپنا مال اورجان لے کر نکلے اورکچھ بھی واپس نہ لائے " صحیح بخاری ( 2 / 457 )
اور ايك دوسرى حديث ميں ہے ابن عباس رضي اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" عشرہ ذی الحجہ میں کیے گئے عمل سے زیادہ پاکیزہ اورزيادہ اجروالا عمل کوئي نہيں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گيا کہ نہ ہی اللہ تعالی کے راستے میں جھاد کرنا ؟ تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اورنہ ہی اللہ تعالی کے راستے میں جھاد کرنا " سنن دارمی ( 1 / 357 ) اس کی سند حسن ہے دیکھیں الارواء الغلیل ( 3 / 398 ) ۔
مندرجہ بالا اوراس کے علاوہ دوسری نصوص اس پردلالت کرتی ہیں کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن باقی سال کے سب ایام سے بہتر اورافضل ہيں اوراس میں کسی بھی قسم کا کوئي استثناء نہيں حتی کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی نہيں ، لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی دس راتیں ان ایام سے بہتر اورافضل ہیں کیونکہ ان میں لیلۃ القدر شامل ہے ، اورلیلۃ القدر ایک ہزار راتوں سے افضل ہے ، تواس طرح سب دلائل میں جمع ہوتا ہے ۔دیکھیں : تفسیر ابن کثیر ( 5 / 412 ) ۔
لھذا مسلمان شخص كو چاہئے كہ وہ ان دس دنوں كي ابتدا اللہ تعالى كے سامنے سچى اور پكى توبہ كے ساتھ كرے اور پھر عمومى طور پر كثرت سے اعمال صالحہ كرے اور پھر خاص كر مندرجہ ذيل اعمال كا خيال كرتے ہوئے انہيں انجام دے:
1 - روزے ۔
مسلمان شخص کےلیے نو ذوالحجہ کا روزہ رکھنا سنت ہے کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دس ایام میں اعمال صالحہ کرنے پرابھارا ہے اور روزہ رکھنا اعمال صالحہ میں سے سب سے افضل اوراعلی کام ہے ، اوراللہ تعالی نے روزہ اپنے لیے چنا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
( ابن آدم کے سارے کے سارے اعمال اس کے اپنے لیے ہیں لیکن روزہ نہيں کیونکہ وہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا اجروثواب دونگا ) ، صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1805 ) ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نو ذوالحجہ کا روزہ رکھا کرتے تھے ، ھنیدہ بن خالد اپنی بیوی سے اوروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ نے بیان کیا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو ذوالحجہ اوریوم عاشوراء اورہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے ، مہینہ کے پہلے سوموار اوردو جمعراتوں کے ۔
سنن نسائي ( 4 / 205 ) سنن ابوداود ، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود ( 2 / 462 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
2 - تکبیریں، الحمد اللہ اور سبحان اللہ كثرت سے کہنا :
ان دس ایام میں مساجد ، راستوں اورگھروں اورہر جگہ جہاں اللہ تعالی کا ذکر کرنا جائز ہے وہیں اونچی آواز سے تکبیریں اورلاالہ الااللہ ، اورالحمدللہ کہنا چاہیے تا کہ اللہ تعالی کی عبادت کا اظہار اوراللہ تعالی کی تعظیم کا اعلان ہو ۔ مرد تواونچي آواز سے کہيں گے لیکن عورتیں پست آواز میں ہی کہيں ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اپنے فائدے حاصل کرنے کوآجائيں ، اوران مقرردنوں میں ان چوپایوں پراللہ تعالی کانام یاد کریں جوپالتوہیں } الحج ( 28 ) ۔
جمہورعلماء کرام کا کہنا ہے کہ معلوم دنوں سے مراد ذوالحجہ کے دس دن ہیں کیونکہ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ ایام معلومات سے مراد دس دن ہیں ۔
عبد اللہ بن عمر رضي اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اللہ تعالى كے ہاں ان دس دنوں سے عظيم كوئى دن نہيں اور ان دس ايام ميں كئے جانے والے اعمال سے زيادہ كوئي عمل محبوب نہيں، لھذا لاالہ الا اللہ، اور سبحان اللہ ، اور تكبيريں كثرت سے پڑھا كرو" اسے امام احمد نے روايت كيا ہے اور اس كي سند كو احمد شاكر رحمہ اللہ نے صحيح قرار ديا ہے: ديكھيں: مسند احمد ( 7/ 224 ) .
اورتکبیر کے الفاظ یہ ہیں :
الله أكبر ، الله أكبر لا إله إلا الله ، والله أكبر ولله الحمد
اللہ بہت بڑاہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ تعالی کےعلاوہ کوئي معبود برحق نہيں ، اوراللہ بہت بڑا ہے ، اوراللہ تعالی ہی کی تعریفات ہیں ۔
اس کےعلاوہ بھی تکبیریں ہیں ۔
یہاں ایک بات کہنا چاہیں گے کہ موجود دورمیں تکبریں کہنے کی سنت کوترک کیا جاچکا ہے اورخاص کران دس دنوں کی ابتداء میں توسننے میں نہیں آتی کسی نادر شخص سے سننے میں آئيں گیں ، اس لیے ضروری ہے کہ تکبیروں کواونچی آواز میں کہا جائے تاکہ سنت زندہ ہوسکے اورغافل لوگوں کوبھی اس سے یاد دہانی ہو۔
ابن عمر اور ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہما کے بارہ میں ثابت ہے کہ وہ دونوں ان دس ایام میں بازاروں میں نکل کر اونچی آواز کے ساتھ تکبیریں کہا کرتے تھے اورلوگ بھی ان کی تکبیروں کی وجہ سے تکبیریں کہا کرتے تھے ، اس کا مقصد اورمراد یہ ہے کہ لوگوں کوتکبریں کہنا یاد آئيں اور ہرایک اپنی جگہ پراکیلے ہی تکبریں کہنا شروع کردے ، اس سے یہ مراد نہيں کہ سب لوگ اکٹھے ہوکر بیک آواز تکبیریں کہيں کیونکہ ایسا کرنا مشروع نہيں ہے
اورجس سنت کوچھوڑا جاچکا ہویا پھر وہ تقریبا چھوڑی جارہی ہو تواس پرعمل کرنا بہت ہی عظیم اجروثواب پایا جاتا ہے کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی اس پردلالت کرتا ہے :
( جس نے بھی میری مرد سنت کوزندہ کیا اسے اس پر عمل کرنے والے کے برابر ثواب دیا جائے گا اوران دونوں کے اجروثواب میں کچھ کمی نہيں ہوگي ) اسے امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے روایت کیا ہے : دیکھیں سنن ترمذي ( 7 / 443 ) یہ حدیث اپنے شواھد کے ساتھ حسن درجہ تک پہنچتی ہے ۔
3 - حج وعمرہ کی ادائيگي :
ان دس دنوں میں جوسب سے افضل اوراعلی کام ہے وہ بیت اللہ کاحج وعمرہ کرنا ہے ، لھذا جسے بھی اللہ تعالی اسے اپنے گھرکا حج کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوراس نے مطلوبہ طریقہ سے حج کے اعمال ادا کیے توان شاء اللہ اسے بھی اس کا حصہ ملے گا جونبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں بیان کیا ہے :
( حج مبرور کا جنت کے علاوہ کوئي اجروثواب نہيں ) ۔
4 - قربانی :
عشرہ ذی الحجہ کے اعمال صالحہ میں قربانی کے ذریعہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا بھی شامل ہے کہ قربانی کی جائے اوراللہ تعالی کےراستے میں مال خرچ کیا جائے ۔
لھذا ہميں ان فضيلت والے ايام سے فائدہ اٹھانا چاہئے يہ ہمارے لئے بہترين اور سنہري موقع ہے، قبل اس كے كہ ہم اپنى كوتاہى پر نادم ہوں، اور قبل اس كے كہ ہم واپس دنيا ميں آنے كا سوال كريں ليكن اس كي شنوائى نہ ہو.
واللہ اعلم .
Read More »

قربانی کے; شروط



 قربانی کے; شروط


میں نےاپنی اوراولاد کی جانب سے قربانی کرنے کی نیت کی ہے ، توکیا قربانی کے لیے کچھ خاص اورمعین صفات پائي جاتی ہیں جن کا پایا جانا ضروری ہے ؟ یا یہ کہ میں کوئي بھی بکری ذبح کرسکتا ہوں ؟
الحمد للہ 
قربانی کے لیے چھ شروط کا ہونا ضروری ہے :
پہلی شرط :
وہ قربانی بھیمۃ الانعام میں سے ہو جوکہ اونٹ ، گائے ، بھیڑ بکری ہیں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اورہرامت کے لیے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تا کہ وہ ان چوپائے جانوروں پراللہ تعالی کا نام لیں }
اوربھیمۃ الانعام سے مراد اونٹ گائے بھیڑ بکری ہيں عرب کے ہاں بھی یہی معروف ہے اورحسن ، قتادہ وغیرہ نے بھی یہی کہا ہے ۔
دوسری شرط :
قربانی کا جانور شرعی محدود عمرکا ہونا ضروری ہے ، وہ اس طرح کہ بھيڑ کی نسل میں جذعہ یا پھر اس کے علاوہ میں سے ثنیہ ہونا ضروری ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
( مسنہ ( یعنی دودانت والا ) کے علاوہ کوئي اورذبح نہ کرو لیکن اگر تمہیں مسنہ نہ ملے توبھيڑ کا جذعہ ذبح کرلو ) صحیح مسلم ۔
مسنہ ثنیہ اوراس سے اوپروالی عمر کا ہوتا ہے اورجذعہ اس سے کم عمر کا ۔
لھذا اونٹ پورے پانچ برس کا ہو تووہ ثنیہ کہلائے گا ۔
گائے کی عمر دوبرس ہوتووہ ثنیہ کہلائے گی ۔
بکری جب ایک برس کی ہوتووہ ثنیہ کہلائے گی ۔
اورجذعہ ایک سال کے جانور کوکہتے ہیں ، لھذا اونٹ گائے اوربکری میں ثنیہ سے کم عمرکے جانوری کی قربانی نہیں ہوگي ، اوراسی طرح بھيڑ میں سے جذعہ سے کم عمرکے جانور کی قربانی صحیح نہيں ہوگي ۔
تیسری شرط :
قربانی کا جانورچار عیوب سے پاک ہونا چاہیے :
1 - آنکھ میں واضح اورظاہر عیب : یعنی جس کی آنکھ بہہ چکی ہو یا پھر بٹن کی طرح باہر نکلی ہوئي ہو ، یا پھر آنکھ مکمل اورساری سفید ہوجواس کے بھینگے پن پرواضح دلالت کرتا ہے ۔
2 - واضح بیمار جانور : اس سے مراد وہ بیماریاں ہیں جوجانوروں پرظاہرہوتی ہیں مثلا وہ بخار جس کی بنا پرجانور چرنا ہی ختم کردیتا ہے اوراس کے چرنے کی چاہت ہی ختم ہوجاتی ہے ، اوراسی طرح واضح اورظاہرخارش جواس کے گوشت کوخراب کردینے والی ہو ، یااس کی صحت پراثرانداز ہورہی ہو ، اورگہرا زخم جواس کی صحت پراثرانداز ہوتا ہو وغیرہ دوسری بیماریاں ۔
3 - واضح طورپرپایا جانے والا لنگڑا پن : وہ لنگڑا پن جواسے سیدھا اورصحیح چلنے سے روکے اورمشکل سے دوچار کرے ۔
4 - گودے کوزائل کرنے والی کمزوری : کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ پوچھا گيا کہ قربانی کا جانور کن عیوب سے صاف ہونا چاہیے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکےفرمایا چارعیوب سے :
( وہ لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن واضح ہو ، اورآنکھ کے عیب والا جانورجس کی آنکھ کا عیب واضح ہو ، اوربیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو، اوروہ کمزور وضعیف جانور جس کا گودا ہی نہ ہو ) ۔اسے امام مالک رحمہ اللہ تعالی نے موطا میں براء بن عازب رضي اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے ۔
اورسنن میں برا‏ء بن عازب رضي اللہ تعالی عنہ ہی سے ایک روایت مروی ہے جس میں ہے وہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اندر کھڑے ہوئے اورفرمانے لگے :
( چارقسم کے جانور قربانی میں جائز نہيں ) اوراسی طرح حدیث ذکر کی ہے ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل میں اسے صحیح قرار دیا ہے ، دیکھیں حدیث نمبر ( 1148 ) ۔
لھذا یہ چارعیب ایسے ہیں جن کے پائے جانے کی بنا پرقربانی نہيں ہوتی ، اوران چارعیوب کے ساتھ اس طرح کے اوربھی عیوب ملحق ہوتے ہیں یا وہ عیوب جواس سے بھی شدید ہوں توان کے پائے جانے سے بھی قربانی نہيں ہوتی ، ہم انہيں ذيل میں ذکر کرتے ہیں :
1 - اندھا پن وہ جانور جس کی آنکھوں سے نظرہی نہ آتا ہو ۔
2 - وہ جانورجسنے اپنی طاقت سےزيادہ چر لیا ہو اس کی قربانی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک وہ صحج نہیں ہوجاتا اوراس سے خطرہ نہيں ٹل جاتا ۔
3 - وہ جانور جسےجننے میں کوئي مشکل درپیش ہو جب تک اس سے خطرہ زائل نہ ہوجائے ۔
4 - زخم وغیرہ لگا ہوا جانور جس سے اس کی موت واقع ہونے کا خدشہ ہوگلا گھٹ کر یا بلندی سے نيچے گر کریا اسی طرح کسی اوروجہ سے اس وقت تک ایسے جانورکی قربانی نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس سے خطرہ زائل نہيں ہوجاتا ۔
5 - کسی آفت کی وجہ سے چلنے کی سکت نہ رکھنے والا جانور ۔
6 - اگلی یا پچھلی ٹانگوں میں سے کوئي ایک ٹانگ کٹی ہوئي ہو ۔
جب ان چھ عیوب کوحدیث میں بیان چارعیوب کے ساتھ ملایا جائے توان کی تعداد دس ہوجائے گی ۔
چوتھی شرط :
وہ جانور قربانی کرنے والی کی ملکیت ہو یا پھر شریعت یا مالک کی جانب سے اجازت ملی ہو ۔
لھذا جوجانورملکیتی نہ ہو اس کی قربانی صحیح نہیں ، مثلا غصب یا چوری کردہ جانور اور اسی طرح باطل اورغلط دعوے سے لیا گيا جانور ، کیونکہ اللہ تعالی کی معصیت ونافرمانی کے ساتھ اس کا تقرب حاصل نہيں ہوسکتا ۔
اورجب عادتا قربانی ہوتی ہواورنہ کرنے سے یتیم کودل آزاری ہوتی ہو تویتیم کےلیے اس کے مال سے والی کی جانب سے قربانی کرنا صحیح ہے ۔
اوراسی طرح موکل کی جانب سے وکیل اپنے موکل کی اجازت اوراس کے مال سے قربانی کرنی صحیح ہوگي ۔
پانچویں شرط :
کہ اس کا کسی دوسرے کے ساتھ تعلق نہ ہو ، لھذا رہن رکھے گئے جانور کے ساتھ قربانی نہيں ہوسکتی ۔
چھٹی شرط :
قربانی کوشرعی محدود شرعی وقت کے اندر اندرذبح کیا جائے ، اوریہ وقت دس ذی الحجہ کونماز عید کے بعد سے شروع ہوکرایام تشریق کے آخری دن سورج غروب ہونے تک باقی رہتا ہے ، ایام تشریق کا آخری دن ذی الحجہ کی تیرہ تاریخ بنتا ہے ، تواس طرح ذبح کرنے کے چار دن ہیں ۔
عید کے دن نماز عید کے بعد ، اوراس کے بعد تین دن یعنی گیارہ ، بارہ اورتیرہ ذی الحجہ کے ایام ، لھذا جس نے بھی نماز عید سے قبل ہی قربانی ذبح کرلی یا پھر تیرہ ذی الحجہ کوغروب شمس کے بعد کوئي شخص قربانی کرتا ہے تواس کی یہ قربانی صحیح نہیں ہوگي ۔
اس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے براء بن عازب رضي اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے :
وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( جس نے نماز ( عید ) سے قبل ذبح کرلیا وہ صرف گوشت ہے جووہ اپنے اہل عیال کوپیش کررہا ہے اوراس کا قربانی سے کوئي تعلق نہيں ) ۔
اورجندب بن سفیان البجلی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ حاضرتھا توانہوں نے فرمایا :
( جس نے نماز عید سےقبل ذبح کرلیا وہ اس کے بدلے میں دوسرا جانور ذبح کرے ) ۔
اورنبیشہ ھذیلی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( ایام تشریق کھانے پینے اوراللہ تعالی کے ذکرواذکار کے ایام ہیں ) اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔
لیکن اگراسے ایام تشریق سے قربانی کوتاخیرکرنے کا کوئي عذر پیش آجائے مثلا اس کی قربانی کا جانور اس سے بھاگ گيا اوراس میں اس کی کوئي کوتاہی نہيں تھی اوروہ جانورایام تشریق کے بعد واپس ملے ، یااس نے کسی کوقربانی ذبح کرنے کا وکیل بنایا تووکیل اسے ذبح کرنا ہی بھول گیا اوروقت گزر گیا ، تواس عذر کی بنا پروقت گزرنے کے بعد ذبح کرنے میں کوئي حرج نہيں ، اورنماز کے وقت میں سوئے ہوئے یابھول جانےوالے شخص پرقیاس کرتے ہوئے کہ وہ جب سوکراٹھے یا جب اسے یاد آئے تونماز ادا کرے گا ۔
اوروقت محددہ کے اندر دن یا رات میں کسی بھی وقت قربانی ذبح کی جاسکتی ہے ، قربانی دن کے وقت ذبح کرنا اولی اوربہتر ہے ، اورعید والے دن نماز عید کے خطبہ کے بعد ذبح کرنا افضل اوراولی ہے ، اوراسی طرح اس کے بعدوالے دن میں یعنی جتنی جلدی ذبح کی جائے بہتراور افضل ہوگي ، کیونکہ اس میں خیروبھلائي کرنے میں سبقت ہے ۔ انتھی ۔ .
Read More »

یوم عرفہ کی فضیلت



یوم عرفہ کی فضیلت


یوم عرفہ کی کیا فضيلت ہے ؟
الحمد للہ 
یوم عرفہ کے فضائل میں سے کچھ یہ ہيں :
1 - اس دن دین اسلام کی تکمیل اورنعتموں کا اتمام ہوا
صحیحین میں عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ سے حدیث مروی ہے کہ ایک یھودی نے عمربن خطاب سے کہا اے امیر المومنین تم ایک آيت قرآن مجید میں پڑھتے ہو اگروہ آيت ہم یھودیوں پرنازل ہوتی توہم اس دن کو عید کا دن بناتے عمررضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے وہ کون سی آیت ہے ؟
اس نے کہا : { اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا } المائدة :3 .
آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کوکامل کردیا اورتم پراپناانعام بھر پور کردیا اورتمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پررضامند ہوگیا ۔
توعمررضي اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے :
ہمیں اس دن اورجگہ کا بھی علم ہے ، جب یہ آيت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوئ وہ جمعہ کا دن تھا اورنبی صلی اللہ علیہ عرفہ میں تھے ۔
2 - عرفہ میں وقوف کرنے والوں کے لیے عید کا دن ہے :
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
یوم عرفہ اوریوم النحر اورایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید کےدن ہیں اوریہ سب کھانے پینے کے دن ہیں ۔
اسے اصحاب السنن نے روایت کیا ہے ۔
اورعمربن الخطاب رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا :
یہ آيت { اليوم اکملت } جمعہ اورعرفہ والے دن نازل ہوئ ، اوریہ دونوں ہمارے لیے عید کے دن ہیں ۔
3 – یہ ایسا دن ہے جس کی اللہ تعالی نے قسم اٹھائ ہے :
اورعظیم الشان اورمرتبہ والی ذات قسم بھی عظیم الشان والی چيز کے ساتھ اٹھاتی ہے ، اوریہی وہ یوم المشہود ہے جو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں کہا ہے :
{ وشاهد ومشهود } البروج ( 3 ) حاضرہونے والے اورحاضرکیے گۓ کی قسم ۔
ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :
( یوم موعود قیامت کا دن اوریوم مشہود عرفہ کا دن اورشاھد جمعہ کا دن ہے ) اسے امام ترمذي نے روایت کیا اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے حسن قرار دیا ہے ۔
اوریہی دن الوتر بھی ہے جس کی اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں قسم اٹھائ ہے { والشفع والوتر } اورجفت اورطاق کی قسم ۔ الفجر ( 3 )
ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں الشفع عیدالاضحی اورالوتر یوم عرفہ ہے ، عکرمہ اورضحاک رحمہ اللہ تعالی کا قول بھی یہی ہے ۔
4 – اس دن کا روزہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے :
قتادہ رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کے روزہ کےبارہ میں فرمایا :
( یہ گزرے ہوۓ اورآنے والے سال کے گناہوں کاکفارہ ہے ) صحیح مسلم ۔
یہ روزہ حاجی کے لیے رکھنا مستحب نہیں اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ررزہ ترک کیا تھا ، اوریہ بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کا میدان عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، لھذا حاجی کے علاوہ باقی سب کے لیے یہ روزہ رکھنا مستحب ہے ۔
5 - یہ وہی دن ہے جس میں اللہ تعالی نے اولاد آدم سے عھد میثاق لیاتھا :
ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( بلاشبہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کی ذریت سے عرفہ میں میثاق لیا اورآدم علیہ السلام کی پشت سے ساری ذریت نکال کرذروں کی مانند اپنے سامنے پھیلا دی اوران سے آمنے سامنے بات کرتے ہوۓ فرمایا :
{ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا کیون نہیں ! ہم سب گواہ بنتے ہیں ، تا کہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ تم تو اس محض بے خـبر تھے ، یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک توہمارے بڑوں نے کیا اورہم توان کے بعد ان کی نسل میں ہوۓ ، توکیا ان غلط راہ والوں کے فعل پرتو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا ؟ } الاعراف ( 172- 173 ) مسند احمد ، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوصحیح قرار دیا ہے ۔ تواس طرح کتنا ہی عظیم دن اورکتنا ہی عظیم عھدو میثاق ہے ۔
6 - اس دن میدان عرفات میں وقوف کرنےوالوں کوگناہوں کی بخشش اور آگ سے آزادی ملتی ہے :
صحیح مسلم میں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا حديث مروی ہے کہ :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( اللہ تعالی یوم عرفہ سے زیادہ کسی اوردن میں اپنے بندوں کوآگ سے آزادی نہیں دیتا ، اوربلاشبہ اللہ تعالی ان کے قریب ہوتا اورپھرفرشتوں کےسامنے ان سے فخرکرکے فرماتا ہے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ )
عبداللہ بن عمررضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( اللہ تعالی یوم عرفہ کی شام فرشتوں سے میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں کےساتھ فخرکرتے ہوۓ کہتے ہیں میرے ان بندوں کودیکھو میرے پاس گردوغبار سے اٹے ہوۓ آۓ ہیں ) مسند احمد علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوصحیح قرار دیا ہے ۔
واللہ اعلم .
Read More »

أحاديث في استحباب صيام العشر الأول من ذي الحجة



أحاديث في استحباب صيام العشر الأول من ذي الحجة


من خلال المقالة التي على موقعكم ، والمعنونة بـ" العشر الأول من ذي الحجة "، فهمت أنه يُستحب صيام يوم التاسع ، ولكن لم تذكروا ما إذا كان من السنة صيام بقية أيام العشر. وهناك أحاديث لا أدري صحتها ، تُبَيِّنُ فضل هذه الأيام ، وتحث على التزود بالطاعات فيها ، بما في ذلك الصيام . هذه الأحاديث هي كالتالي : 1- عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( ما من أيام أحب إلى الله أن يتعبد له فيها من عشر ذي الحجة ، يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة ، وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر ) رواه الترمذي وابن ماجة والبيهقي. 2- عن حفصة رضي الله عنها قالت : ( خمس لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يدعهن : صيام يوم عاشوراء ، وعشر من ذي الحجة ، وثلاثة أيام من كل شهر ، وركعتين قبل الفجر...) رواه أحمد والنسائي . فمِن هذه الأحاديث أفهم أنه ليس من السنة فقط صيام اليوم التاسع ، بل بقية العشر كذلك . فهل هذا صحيح ؟ ولماذا لم يُذكر ذلك في المقالة ؟ وهل الأحاديث المذكورة صحيحة ؟

الجواب :
الحمد لله
أولا :
سبق في موقعنا تقرير استحباب صيام الأيام التسعة الأولى مِن ذي الحجة ، وذلك في جواب السؤال رقم : (41633) ، (49042) ،(84271)
ثانيا :
أما الحديث الوارد عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :
( مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ ، يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ )
فرواه الترمذي (رقم/758)، والبزار (رقم/7816)، وابن ماجه (رقم/1728) من طريق أبي بكر بن نافع البصري ، قال: حدثنا مسعود بن واصل ، عن نهاس بن قهم ، عن قتادة ، عن سعيد بن المسيب ، عن أبي هريرة به .
وهذا إسناد ضعيف بسبب النهاس بن قهم ، ومسعود بن واصل ، ولذلك اتفقت كلمة علماء الحديث على تضعيفه :
قال الترمذي رحمه الله :
" هذا حديث غريب ، لا نعرفه إلا من حديث مسعود بن واصل ، عن النهاس .
وسألت محمدا – يعني البخاري - عن هذا الحديث فلم يعرفه من غير هذا الوجه مثل هذا .
وقد روي عن قتادة ، عن سعيد بن المسيب ، عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا شيء من هذا . وقد تكلم يحيى بن سعيد في نهاس بن قهم من قبل حفظه " انتهى.
وقال البغوي رحمه الله :
" إسناده ضعيف " انتهى.
" شرح السنة " (2/624)
وقال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله :
" فيه ضعف " انتهى.
" شرح العمدة " (2/555)
وقال الحافظ ابن حجر رحمه الله :
" إسناده ضعيف " انتهى.
" فتح الباري " (2/534)
وضعفه الشيخ الألباني رحمه الله في " السلسلة الضعيفة " (رقم/5142)
يقول الحافظ ابن رجب رحمه الله – بعد أن أورد هذا الحديث وغيره في الباب - :
" وفي المضاعفة أحاديث أخر مرفوعة ، لكنها موضوعة ، فلذلك أعرضنا عنها وعما أشبهها من الموضوعات في فضائل العشر ، وهي كثيرة " انتهى.
" لطائف المعارف " (ص/262)
ثالثا :
أما الحديث الثاني الوارد في السؤال : ( خمس لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يدعهن .. ) ، فمداره على هنيدة بن خالد الخزاعي ، وقد جاء عنه على أوجه إسنادية كثيرة ، وبألفاظ مختلفة :
الوجه الأول : هنيدة بن خالد ، عن أم المؤمنين حفصة رضي الله عنها .
وقد رواه عنه الحر بن الصيَّاح ، ورواه عن الحر على هذا الوجه ثلاثة من الرواة :
1- عمرو بن قيس الملائي : يرويه النسائي في " السنن " (2416)، وأحمد في " المسند " (44/59)، والطبراني في " المعجم الكبير " (23/205)، وابن حبان في صحيحه (14/332)، وأبو يعلى في " المسند " (12/469) ولفظه : ( أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِيَامَ عَاشُورَاءَ ، وَالْعَشْرَ ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَالرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ ) والراوي عن عمرو بن قيس هو أبو إسحاق الأشجعي : مجهول ، ولذلك ضعفه به محققو المسند ، والشيخ الألباني في " إرواء الغليل " (4/111) .
2- وزهير بن معاوية أبو خيثمة : عند النسائي في " الكبرى " (2/135) ولفظ زهير : ( كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يصوم من كل شهر ثلاثة أيام ، أول اثنين من الشهر ، ثم الخميس ، ثم الخميس الذي يليه )
3- وشريك : أخرجه النسائي في " الكبرى " (2/135) ، وأحمد في " المسند " (9/460) طبعة مؤسسة الرسالة، وجعله شريك من مسند ابن عمر بلفظ حديث زهير .
يقول ابن أبي حاتم رحمه الله :
" سألتُ أبِي ، وأبا زُرعة ، عَن حدِيثٍ ؛ رواهُ شرِيكٌ ، عنِ الحُرِّ بنِ الصياحِ ، عنِ ابنِ عُمر : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم ، كان يصُومُ مِن الشّهرِ الاثنين ، والخمِيس الّذِي يلِيهِ ، ثُمّ اثنين الّذِي يلِيهِ .
فقالا : هذا خطأٌ ، إِنّما هُو الحُرُّ بنُ صياحٍ ، عن هُنيدة بنِ خالِدٍ ، عنِ امرأتِهِ ، عن أُمِّ سلمة ، عنِ النّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " انتهى.
" العلل " (1/231)
وقال محققو المسند :
" إسناده ضعيف، شريك - وهو ابن عبد الله النخعي -، سيئ الحفظ ، وقد اختلف عليه في لفظ الحديث – ثم ذكروا ذلك الاختلاف - " انتهى.
" المسند " (9/460)
الوجه الثاني : عن هنيدة بن خالد ، عن امرأته ، عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم.
يرويه أبو عوانة ، عن الحر بن الصياح ، عن هنيدة ، على هذا الوجه : أخرجه أبو داود (رقم/2437)، والنسائي (2372)، (2418)، وأحمد (37/24)، (44/69)، والبيهقي في " السنن الكبرى " (4/284)، والطحاوي في " شرح معاني الآثار " (2/76) ولفظه عند أبي داود : ( كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم تسع ذي الحجة ، ويوم عاشوراء ، وثلاثة أيام من كل شهر ، أول اثنين من الشهر والخميس )
الوجه الثالث : عن هنيدة ، عن أمه ، عن أم سلمة
من طريق محمد بن فُضَيل ، قال : حدثنا الحسن بن عُبيد الله ، عن هنيدة الخزاعي ، عن أمه ، عن أم سلمة قالت : ( كَانَ رَسُولُ اللهِِ صلى الله عليه وسلم يَأمُرُ بِصِيَامِ ثَلاثَةِ أيَّامٍ : أوَّلَ خَمِيسٍ ، وَالاثْنَيْنَ وَالاثْنَيْنَ - وفىِ رواية - : كَانَ رَسُولُ اللهِِ صلى الله عليه وسلم يَاْمُرُنِي أَنْ أصُومَ ثَلاثَةَ أيَّام مِنَ الشَّهْرِ : الاثْنَيْن ، وَالْخَمِيس ، وَالاثْنَيْن مِنَ الْجُمُعَةِ الأخْرَى - وفي رواية -: كَانَ رَسُولُ اللهِِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرنِي أَنْ أصُومَ ثَلاثَةَ أيَامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، أوَّلُهَا الاثْنَيْنَ ، وَالْجُمُعَة ، وَالْخَمِيس )
أخرجه أحمد (44/82) ، وأبو يعلى في " المسند " (12/315) ، وأبو داود (2452)،   والنَّسائي (4/221)، وليس فيه ذكر لصيام تسع ذي الحجة ، وصيام يوم عاشوراء ، بل اقتصر على صيام ثلاثة أيام من كل شهر .
الوجه الرابع : عن هنيدة ، عن امرأته ، عن أم سلمة
من طريق عبد الرحيم بن سليمان ، عن الحسن بن عبيد الله ، عن الحر بن صياح ، عن هنيدة بن خالد ، عن امرأته ، عن أم سلمة – باللفظ السابق - رواه الطبراني في " المعجم الكبير " (23/216)، (23/420)، وأبو يعلى في " المسند "
الوجه الخامس : عن هنيدة بن خالد ، قال : دخلتُ على أم المؤمنين – ولم يعين اسمها - .
من طريق زهير بن معاوية ، عن الحر بن الصياح ، قال سمعت هنيدة الخزاعي قال : دخلت على أم المؤمنين سمعتها تقول : ( كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم من كل شهر ثلاثة أيام : أول اثنين من الشهر ، ثم الخميس ، ثم الخميس الذي يليه ) يرويه النسائي (رقم/2415)
والحاصل أن نقاد الحديث اختلفوا في الحكم على هذا الحديث بسبب كل هذا الاختلاف في سنده ومتنه :
فضعف الحديثَ الزيلعي في " نصب الراية " (2/157)، ومحققو مسند أحمد ، والشيخ ابن باز – كما في " مجموع فتاوى ابن باز " (15/417) – وذلك لاضطراب سنده ومتنه ، ولعل هذا هو المتجه في الحكم على الحديث .
وصحح الشيخ الألباني في " صحيح أبي داود " (7/196-199) روايتي زهير بن معاوية وأبي عوانة عن الحر بن الصياح .

وجاء في " العلل " للدارقطني (15/121-122):
" وسئل عن حديث هنيدة بن خالد الخزاعي ، عن حفصة ، قالت : أربعة لم يدعهن النبي صلى الله عليه وسلم : صيام عاشوراء ، والعشر ، وثلاثة أيام من كل شهر ، والركعتان قبل الغداة .
فقال : يرويه الحر بن الصياح ، عن هنيدة بن خالد الخزاعي ، عن حفصة .
وخالفه الحسن بن عبيد الله ، واختلف عنه : فرواه عبد الرحيم بن سليمان ، عن الحسن بن عبيد الله ، عن أمه ، عن أم سلمة ؛ ورواه أبو عوانة ، عن الحر بن الصياح ، عن هنيدة ، عن امرأته ، عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم ، ولم يسمها " انتهى.
والله أعلم .
Read More »