Wednesday, September 10, 2014

شرعی حجاب پہننے والوں کا مذاق اڑانے کا کیا حکم ہے؟ اسے جنی سے تشبیہ دیتا ہو یا چلتا پھرتا خیمہ سے تعبیر کرتا ہو، یا جیسے کوئی اور استہزا کے الفاظ بولے؟

DARUL IFTA
 دائمی کمیٹی کے فتوے
جلد کا نمبر سے براؤز کریں > پہلا مجموعہ > دوسری جلد: عقيدہ (2) > موجبات كفر > پردہ كا مذاق اڑانا

پردہ كا مذاق اڑانا
سوال نمبر2: فتوی نمبر:4127
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 25)
س 2: شرعی حجاب پہننے والوں کا مذاق اڑانے کا کیا حکم ہے؟ اسے جنی سے تشبیہ دیتا ہو یا چلتا پھرتا خیمہ سے تعبیر کرتا ہو، یا جیسے کوئی اور استہزا کے الفاظ بولے؟
ج 2: جو کسی مسلمان مرد یا عورت کا مذاق اڑاۓ اس طور پر کہ وہ شریعت پر کاربند ہیں تووہ کافر ہے، خواہ يہ کسی مسلمان عورت کے شرعی حجاب کا استہزا ہو یا اس کے علاوہ اور کوئی دينی مسئلہ ہو، اس حديث کی وجہ سے جسے عبد اللہ بن عمر رضی الله عنهما نے روایت کیا ہے، فرمایا: غزوہ تبوک کے ایک مجلس میں ایک شخص نے کہا: میں نے اپنے ان ساتھیوں جیسا نہیں دیکھا یہ لوگ پیٹ کے بندے ہیں، اور زبان کے نہایت جھوٹے ہیں، اور دشمنوں کے مقابلہ میں بہت ہی بزدل ہیں، تو ایک شخص نے کہا: تم نے جھوٹ کہا اور تم منافق ہو، میں اس بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور باخبر کرونگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بات پہونچی اور قرآن کی آيت نازل ہوئی، عبد اللہ بن عمر نے کہا: میں نے انہیں رسول اللہ کی اونٹنی کی نکیل سے لٹکا ہوا پایا اور پتھر ان کو زخمی کر رہے تھے اور وہ کہہ رہے تھے: اے اللہ کے رسول! ہم تو ہنسی مذاق کر رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہيں:   ﺍﻟﻠﮧ، ﺍﺱ ﻛﯽ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ کا ﺭﺳﻮﻝ ﮨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ؟ (65) ﺗﻢ ﺑﮩﺎﻧﮯﻧﮧ ﺑﻨﺎ ؤﯾﻘﯿﻨﺎ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻛﭽھ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﺑﮭﯽ ﻛﺮ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﻛﭽھ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺟﺮﻡ ﻛﯽ ﺳﻨﮕﯿﻦ ﺳﺰﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ۔  تو مؤمن کے مذاق اڑانے کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آیت کے مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
وبالله التوفيق ۔ وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلَّم

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

No comments:

Post a Comment