Wednesday, September 10, 2014

جنہوں نے حرام كو حلال كیا یا حلال كو حرام كیا

DARUL IFTA
 دائمی کمیٹی کے فتوے
جلد کا نمبر سے براؤز کریں > پہلا مجموعہ > دوسری جلد: عقيدہ (2) > موجبات كفر > جنہوں نے حرام كو حلال كیا یا حلال كو حرام كیا
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 28)

جنہوں نے حرام كو حلال كیا یا حلال كو حرام كیا
فتوى نمبر: 2204
س: اس حدیث کے سلسلہ میں ہمارے مسلم بھائیوں کے درمیان ترکی میں بہت اختلافات رونما ہوا ہے، (جس نے حرام كو حلال كیا یا حلال كو حرام كیا تو اس نے کفر کیا) تو کیا جس نے حرام كو حلال كیا یا حلال كو حرام كیا، اسے کافر شمار کیا جائیگا یا گناہگار قرار پاۓ گا؟ اور حدیث میں اس قول کا کیا معنی ہے: (کفر)، یا اس کے اور لفظ کافر کے درمیان فرق نہیں ہے؟ حضور والا سے امید ہے کہ اس حدیث کے سلسلے میں اطمينان بخش جواب سے نوازیں۔
ج: پہلی بات : ہمیں اس حدیث کی اصل کا علم نہیں ہے، اور میں کسی معتبر امام کو نہیں جانتا جنہوں نے صحیح یا ضعيف سند کے ساتھ اس حدیث کی تخریج کی ہو، لہذا اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے جب کہ اس حديث کی مذکورہ حالت ہو۔
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 29)
دوسری بات: جب مسلمان قرآن وسنت کے کسی صریح حکم میں اختلاف کرے تو ان کی تاویل کو قبول نہیں کیا جائیگا اور اس میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے، یا قطعی طور پر ثابت شدہ اجماع کی مخالفت کرے تو ان کو درست حکم بتایا جائیگا اگر انہوں نے قبول کرلیا تو اللہ کا شکر ہے۔ اور اگر بيان اور حجت کے قائم ہونے کے بعد بھی اللہ کے حکم کو بدلنے پر مصر رہا تو اس پر کفر کا حکم لگایا جائیگا اور دین اسلام سے مرتد ہونے والے شخص جیسا معاملہ کیا جائیگا۔ اس كی مثال: جس نے پنجگانہ نماز یا کسی ایک نماز کا انکار کیا یا روزہ اور زکاۃ اور حج کی فرضیت کا انکار کیا یا قرآن اور سنت سے ثابت شدہ احکام میں تاویل کی اور امت کے اجماع کی پرواہ نہ کرے، اور جب کسی ثابت حکم کی مخالفت ايسی دليل کی بنا پر کرے جو مختلف فیہ ہے، یا اس نے تاویل کے مسئلہ میں کوئی اور معنی پیش کیا یا کوئی اور حکم لگایا تو اس کا اختلاف اجتہادی مسئلہ میں ہوگا اور اس کی تکفیر نہیں کی جائیگی۔ بلکہ اس کی غلطی پر اسے معذور سمجھا جائیگا اور اس کے اجتہاد پر اسے اجر ملے گا، اور اگر اس نے حق کو پالیا تو قابل ستائش ہوگا اور دوگنا اجر ملے گا، ایک اجر اس کے اجتہاد کا، اور ایک اجر حق کو پالینے کا، اس كی مثال: جس کسی نے مقتدی پر سورہ فاتحہ کے پڑھنے کے وجوب کا انکار کیا، یا کسی نے اس کا پڑھنا مقتدی کے لئے واجب کہا، یا کسی نے اہل میت کے لئے کھانا پكانا یا لوگوں کو اکھٹا کرنے کے حکم کی مخالفت کی اور کہا: کہ یہ مستحب ہے، یا اس نے کہا: بے شک یہ مباح ہے، یا یہ مکروہ ہے حرام نہیں ہے، تو ان جیسوں کی تکفیر نہیں کی جائیگی، اور ان کے پیچھے نماز ادا کرنے سے انکار نہیں کیا جائیگا، اور ان کے ساتھ شادی بیاہ پر پابندی نہیں لگائی جائیگی، اور نہ ان کے ذبح کئے ہوئے کو حرام قرار دیا جائیگا، بلکہ انہیں شرعی دلیل کی روشنی میں وعظ ونصیحت کی جائیگی، اس لئے کہ وہ مسلمان بھائی ہے اس کے لئے حقوق ہیں، اور اس مسئلہ میں اختلاف فروعی اور اجتہادی مسئلہ کا اختلاف ہے، ایسے واقعات صحابہ اور ائمہ سلف کے زمانے میں رونما ہوئے ہیں اور کسی نے کسی کی تکفیر نہیں کی اور نہ بعض نے بعض سے ترک تعلق کيا۔
‎ وبالله التوفيق ۔ وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلَّم

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

No comments:

Post a Comment