Wednesday, September 10, 2014

وہاں اہل میت کی طرف سے کھانا تيار کرنے کے مسئلہ میں بہت اختلاف ہے۔ جناب والا سے امید ہے کہ اس مسئلہ اور درج ذیل مسائل پر ہمیں جواب عنايت فرمائیں۔

DARUL IFTA
 دائمی کمیٹی کے فتوے
جلد کا نمبر سے براؤز کریں > پہلا مجموعہ > دوسری جلد: عقيدہ (2) > موجبات كفر > جب مسلمان کسی صریح نص سے ثابت حکم کی مخالفت کرنا
فتوى نمبر:2175
س: ہمارے ملک ويتنام ميں جو تھائی لینڈ کے جنوب میں واقع ہے،
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 32)
وہاں اہل میت کی طرف سے کھانا تيار کرنے کے مسئلہ میں بہت اختلاف ہے۔ جناب والا سے امید ہے کہ اس مسئلہ اور درج ذیل مسائل پر ہمیں جواب عنايت فرمائیں۔
احکام تکليفيہ يہ ہيں: واجب مندوب، جائز، مكروه، ممنوع۔
ان لوگوں کا کیا حکم ہے جو مذکورہ احکام کا انکار کريں اس طور پر کہ
1 - کسی واجب کو مندوب، يا جائز، يا مکروہ یا ممنوع کہيں۔
2 - کسی مندوب کو واجب، يا مباح، يا مکروہ یا ممنوع کہيں۔
3 - کسی مباح کو واجب، يا مندوب، يا مکروہ یا ممنوع کہيں۔
4 - کسی مکروہ کو واجب، يا مندوب، يا مباح یا ممنوع کہيں۔
5 - کسی ممنوع کو واجب، يا مندوب، يا مباح یا مکروہ کہيں۔
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 33)
اس کی بعض مثالیں یہ ہیں: علماء نے کہا کہ (میت کے اہل خانہ کی جانب سے کھانا تيار کرکے ضیافت کرنا مکروہ ہے، اس لئے کہ اس کی مشروعیت خوشی کے موقع پر ہے نہ مصيبت کے وقت ، اور یہ قبیح بدعت ہے) اور اس نے کہا کہ پہلے، دوسرے اور تیسرے دن نيز ایک ہفتہ کے بعد یہ کھانا پکوانا مکروہ ہے۔ اور اس نے کہا کہ میت کے گھر اکٹھا ہونے والوں کے لئے اہل ميت کا کھانا پکوانے کی کراہیت پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے، اسی طرح علماء کے دیگر اقوال بھی ہیں۔ ہمارے شہر فطانی کے بہت سے علماء پہلے کے علماء ربانیین کے بر خلاف بات کہتے ہيں، بعض نے کہا: یہ سنت ہے، بعض نے کہا: مباح ہے، ان میں سے کچھـ نے کہا: واجب ہے، ہم اور حاجی عبد الله حاج محمد صالح اور حاجی عبد الرحمان جافاكيا وہ بات کہتے ہيں جس طرح علماء سابقین نے کہی ہے، اس مسئلہ كى وجہ سے بعض دوسروں کو تکفیر کرتے ہيں، اور بعض دوسروں کے ذبیحہ کو نہیں کھاتے ہیں، اور نہ ہی ان میں سے بعض دوسروں سے نکاح کرتے ہیں، اس لئے ہم جناب والا سے فتوی دينے کی صورت میں جو ایجابی جواب ہے موافقت واعتماد کے خواہاں ہیں۔ جب آپ کا جواب آئے گا تو ہم انشاء اللہ طبع کرا کے تمام لوگوں ميں مفت تقسیم کریں گے۔
ج: پہلی بات: سنت صحیحہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ میت کے اہلِ خانہ کے علاوہ دیگر مسلمان بھائی کھانا تیار کریں اور اہل میت کے لئے بھیجیں، تاکہ ان کے ساتھ تعاون اور ان کی دلجوئی اور اظہار ہمدردی ہو، بسا اوقات وہ لوگ اپنی مصیبت اور آنے والوں کی وجہ سے مصروف ہوتے ہیں اور انہیں کھانا تیار کرنے کی فرصت نہیں ملتى ہے، پس امام ابو داود نےاپنی سنن ميں حضرت عبداللہ بن جعفر سے روايت كیا ہے کہ جب حضرت جعفر رضي الله عنه کى شہادت کی خبر پہنچی تو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: آل جعفر کے لئے کھانا تیار کرو كيونكہ ان پر مصيبت آئى ہے جس نے انہيں مشغول كرديا ہے، اسے احمد ، ابو داود،
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 34)
ترمذی اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے، اور اسے ترمذی نے حسن کہا ہے، رہی بات میت کے اہلِ خانہ کا لوگوں کے لئے کھانا تیار کرنا اور اسے عادت بنانا، يہ غیر معروف عمل ہے، جس کا ثبوت ہمیں نبی اور خلفاء راشدین سے نہیں ملتا ہے، بلكہ یہ بدعت ہے، اس کا ترک کرنا ضروری ہے، اس لئے کہ اس میں اہل میت کے لئے مزید مشغولیت ہے، اور اہل جاہلیت کے کاموں سے مشابہت ہے، اور رسول اللہ اور خلفاء راشدین کی سنت سے اعراض ہے، اور امام احمد نے جریر بن عبد اللہ البجلی سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام اہل میت کے یہاں اکٹھا ہونے اور تدفین کے بعد آنے والوں کے لئے کھانا تیار کرنے کو نوحہ میں شمار کرتے تھے، اسی طرح قبر کے پاس یا موت کے وقت یا میت کے گھر سے نکلنے كے وقت جانور ذبح کرنا جائز نہیں ہے، کيونکہ امام احمد اور ابو داود نے انس رضی الله عنه سے روايت كيا ہے کہ بے شک نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:  اسلام میں ( قبرستان پر ) ذبح کا کوئی تصور نہیں ہے۔
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 35)
دوسری بات: جب کوئی مسلمان کتاب و سنت کے صریح نص سے ثابت شدہ حکم کی مخالفت کرے جو تاویل قبول نہ کرے اور نہ ہی اس میں اجتہاد کی کوئی گنجائش ہو یا یہ کہ قطعی طور پر ثابت شدہ کسی اجماع کی مخالفت کرے، تو اس کو صحيح حکم بتایا جائے گا، اگر قبول کر لیتا ہے تو الحمد للہ، اور اگر اتمام حجت اور وضاحت کرنے کے بعد بھی انکار کرتا ہے اور اللہ کے حکم کو بدلنے پر مصر رہے، تو اس پر کفر کا حکم لگایا جاۓ گا اور اس کے ساتھـ دین اسلام سے مرتد ہونے والوں کا معاملہ کريں گے، اس كی مثال: مثلا پانچ وقت كى نماز یا کوئی ایک نماز، یا روزہ، يا زکوٰۃ یا حج كرنے کی فرضیت کا انکار کرے اور کتاب وسنت کے نصوص کی تاویل کرے اور اجماع امت کی پرواہ نہ کرے۔ جب کوئی مسلمان کسی ثابت حکم کی مخالفت ايسی دليل کی بنا پرکرے جو مختلف فیہ ہے یا اس میں مختلف معانی کی تاویل کی اور اس کے مخالف حکم کی گنجائش ہے، تو یہ اختلاف اجتہادی مسئلہ کا اختلاف ہوگا، اور ایسے آدمی کی تکفیر نہیں کی جاۓ گی؛ بلکہ اس میں وہ معذور ہوگا اور اسے اجتہاد کا ثواب ملے گا، جس کا اجتہاد صحیح ہوگا تو وہ قابلِ تعریف ہے اور اس لئے دو اجر ہے، ایک اجر اجتہاد کا اور دوسرا اجر درستگی تک پہونچنے کا، اس كی مثال: جس نے مقتدی کے لئے سورۂ فاتحہ کی قراءت کے وجوب کا انکار کیا، اور جس نے اس کے لئے اس کی قراءت کو واجب قرار دیا، اور جس نے میت کے گھر کھانا بنانے اور لوگوں کے جمع ہونے کی مخالفت کی، تو کسی نے کہا: کہ یہ مستحب ہے، یا کسی نے کہا: یہ مباح ہے، یا اور کسی نے مکروہ غیر حرام کہا، تو ایسے کی تکفیر کرنا، اس کے پیچھے نماز کا انکار کرنا، اور اس سے نکاح سے رک جانا جائز نہیں ہے، اور اس کے ذبیحہ کو کھانا حرام نہیں ہوگا، بلکہ شرعی دلیل کی روشنی میں اسے وعظ ونصیحت کرنا ہم پر واجب ہيں، کیونکہ وہ مسلمان بھائی ہے اور اس کے لئے مسلمانوں کے حقوق ہیں، اس مسئلہ ميں اختلاف ایک فروعی اجتہادی مسئلہ کا اختلاف ہے، اس طرح کے اختلافات عہد صحابہ کرام اور ائمہ سلف میں ہوتا رہا ہے اور ان میں سے بعض نے دوسروں کی تکفیر نہیں کی اور نہ ہی ایک دوسرے سے قطع تعلق کيا۔
وبالله التوفيق ۔ وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلَّم

No comments:

Post a Comment