Wednesday, September 10, 2014

اہل كتاب کا کفر جو نبی كریم كى رسالت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں

DARUL IFTA
 دائمی کمیٹی کے فتوے
جلد کا نمبر سے براؤز کریں > پہلا مجموعہ > دوسری جلد: عقيدہ (2) > موجبات كفر > اہل كتاب کا کفر جو نبی كریم كى رسالت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 30)

اہل كتاب کا کفر جو نبی كریم كى رسالت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں
تيسرا سوال: فتوی نمبر: 9438
س 3: قرآن کریم نے یقینا اہل کتاب کی تکفیر کی ہے سوائے ان لوگوں سے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے(قرآن)، بہر حال جن یہودیوں نے کہا: کہ بے شک عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اور عیسائیوں نے کہا: مسیح اللہ کے بیٹے ہیں، ۔ اللہ کی پناہ ہو۔ قرآن نے ان لوگوں کی تکفیر صراحتا" کی ہے،   ﻭﮦﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻗﻄﻌﺎکاﻓﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ، ﺍللہ ﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ سے ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮨﮯ، آيت۔
اس قطعی دلیل کے باوجود ہم بعض علماء کو دیکھتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: بے شک اہل کتاب کافر نہیں ہیں، وہ صرف اہل کتاب تھے، برائے مہربانی اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔
ج 3: جنہوں نے انہیں کافر کہا وہ ان کے قرآن اور سنت کو جھٹلانے کے وجہ سے کہا، کیونکہ ان کے کفر کی صراحت موجود ہے، الله تعالى کا فرمان ہے:   ﺍﮮﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ ﺗﻢ ( ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻗﺎﺋﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻛﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ) ﺩﺍﻧﺴﺘﮧ ﺍللہﻛﯽ ﺁﯾﺎﺕ کا ﻛﯿﻮﮞ ﻛﻔﺮ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ سورۂ آل عمران، آیت، اور فرمایا:   ﺑﮯ ﺷﻚﻭﮦ ﻟﻮﮒ کاﻓﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺟﻦ کا ﻗﻮ ﻝ ﮨﮯ ﻛﮧ ﻣﺴﯿﺢ ﺍﺑﻦ ﻣﺮﯾﻢ ﮨﯽ ﺍللہ ﮨﮯ سورۂ مائدہ، آیت، ا ور اس نے کہا:  ﻭﮦﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻗﻄﻌﺎکاﻓﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ، ﺍللہ ﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ سے ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮨﮯ،
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 31)
سورۂ مائدة ، آیت، اور اس نے کہا:   ﯾﮩﻮﺩ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺰﯾﺰ ﺍللہ کاﺑﯿﭩﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺮﺍﻧﯽ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺴﯿﺢ ﺍللہ کا ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻗﻮﻝ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻣﻨﮧ ﻛﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﻣﻨﻜﺮﻭﮞ ﻛﯽ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﻘﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍللہ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﺎﺭﺕ ﻛﺮﮮ ﻭﮦ ﻛﯿﺴﮯ ﭘﻠﭩﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ سورۂ توبہ، آیت، الله تعالى فرماتا ہے:   ﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﮯ کاﻓﺮﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﻙ ﻟﻮﮒ ﺟﺐ ﺗﻚ ﻛﮧﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻇﺎﮨﺮ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﮧﺁﺟﺎﺋﮯ ﺑﺎﺯ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ۔(وه دليل يہ تهى كہ) سورۂ بينہ، آیت، اوراس نے کہا:   ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﻭ، ﺟﻮ ﺍللہ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﺗﮯ ﺟﻮ ﺍللہ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﻛﺮﺩﮦ ﺷﮯ ﻛﻮ ﺣﺮﺍﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ، ﻧﮧ ﺩﯾﻦ ﺣﻖ ﻛﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻛﺘﺎﺏ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻚ ﻛﮧ ﻭﮦ ﺫﻟﯿﻞ ﻭﺧﻮﺍﺭ ﮨﻮ ﻛﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗھ ﺳﮯ ﺟﺰﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﻛﺮﯾﮟ ۔ اور اس طرح کی بہت سی آیتیں ہیں۔
وبالله التوفيق ۔ وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلَّم

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

No comments:

Post a Comment