Wednesday, September 10, 2014

کپڑے پہننے کے باوجود ننگی عورتوں کا حکم

DARUL IFTA
دائمی کمیٹی کے فتوے
جلد کا نمبر سے براؤز کریں > پہلا مجموعہ > دوسری جلد: عقيدہ (2) > موجبات كفر > کپڑے پہننے کے باوجود ننگی عورتوں کا حکم
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 27)

کپڑے پہننے کے باوجود ننگی عورتوں کا حکم
سوال نمبر2: فتوی نمبر:8487
س 2: کیا يہ جائز ہے کہ ہم ان عورتوں کے کفر کا اعتقاد کريں جو کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے : نہ وہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پا سکے گی ۔۔۔ الحديث؟
ج 2: حکم جاننے اور اسکے واضح ہونے کے بعد بھی جو اسے حلال سمجھے اس کی تکفیر کی جائیگی، اور جو اسے حلال تو نہ سمجھے لیکن نیم بربنہ نکلتی ہے تو کافر نہیں ہوں گی، لیکن کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگی، اور ایسے لباس کا ترک کرنا واجب ہے، اور اللہ سے اس پر توبہ کرنا ضروری ہے، ممکن ہے کہ اللہ اسے معاف کردے، اور اگر ايسی عورت بغیر توبہ کے مر گئی تو دیگر گناہگاروں کی طرح اللہ کی مشیئت کے تحت ہوگی، الله عز وجل کا فرمان ہے:   ﯾﻘﯿﻨﺎﺍللہ ﺗﻌﺎلی ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺮﯾﻚ ﻛﺌﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺨﺸﺘﺎﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﻮﺍ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔
وبالله التوفيق ۔ وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلَّم

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

No comments:

Post a Comment