Wednesday, September 10, 2014

زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ میں ہی زمانہ ہوں اسے میں ہی بدلتا رہتا ہوں کیا یہ یہ حدیث ہے؟ اور اگر ہے تو کیا یہ صحیح ہے - یعنی اس کا صیغہ صحیح ہے- اور اس کا کیا معنی ہے

 دائمی کمیٹی کے فتوے
جلد کا نمبر سے براؤز کریں > پہلا مجموعہ > دوسری جلد: عقيدہ (2) > موجبات كفر > زمانے کو گالی دینا
( جلد کا نمبر 2، صفحہ 26)

زمانے كو گالی دینا
تيسرا سوال: فتوی نمبر: 5432
س 3: زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ میں ہی زمانہ ہوں اسے میں ہی بدلتا رہتا ہوں کیا یہ یہ حدیث ہے؟ اور اگر ہے تو کیا یہ صحیح ہے - یعنی اس کا صیغہ صحیح ہے- اور اس کا کیا معنی ہے؟
ج 3: اس کی تخریج بخاری اور مسلم نے کی ہے، ابو ہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے: رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا:  الله تعالى فرماتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف پہونچاتا ہے کیونکہ وہ زمانے کو گالی دیتا ہے اور میں ہی زمانہ ہوں میں ہی رات اور دن کو الٹتا پلٹتا ہوں۔ اور ايک روايت ميں ہے: زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
امام بغوی رحمه الله تعالى نے اس معنی کو بیان کرتے ہوئے یوں کہا ہے کہ عربوں کی عادت تھی کہ وہ مصیبت کے وقت زمانے کو گالی دیتے تھے، اس لئے کہ جو مصیبت وپریشانی ان کو لاحق ہوتی اسے زمانے کی جانب منسوب کرتے تھے، کہتے کہ انہیں زمانے کی سخت مصیبت پہنچی ہے، زمانہ نے اسے برباد کردیا، جو مصیبت اسے لاحق ہوئی ہے اگر اسے زمانے کی طرف منسوب کیا تو گویا کہ اس نے اس کے فاعل کو گالی دی، تو ان کی گالی اللہ کی جانب لوٹتی ہے اس لئے کہ جس کام کی نسبت زمانے کی طرف کر رہے ہیں اس کا فاعل حقیقی اللہ عزوجل ہے، تو زمانے کو گالی دینے سے منع کیا گیا ہے، اختصار کے ساتھ بات مکمل ہوئی۔
وبالله التوفيق ۔ وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلَّم

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

No comments:

Post a Comment